ٹی 20 انٹرنیشنل میچز میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ مقابلے کا فیصلہ سپر اوور میں ہو اور ایسا تو بالکل ہی شاذونادر ہوتا ہے کہ سپر اوور میں بھی فیصلہ نہ ہو پائے اور دوسرا سپر اوور کھیلنے کی نوبت آئے۔
بدھ کے روز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ اور افغانستان کے درمیان ہونے والے میچ میں ایسا ہی ہوا اور بالآخر جنوبی افریقہ نے دوسری سوپر اوور میں افغانستان کو شکست دے دی۔ کچھ صارفین اسے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی تاریخ کا بہترین میچ قرار دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں صرف ایک ڈبل سپر اوور کا میچ کھیلا گیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جنوری 2024 میں کھیلے گئے اس میچ میں بھی افغانستان شامل تھا۔ تاہم اسے اس میچ میں بھی اسے انڈیا کے ہاتھوں شکست کھانی پڑی تھی۔
بدھ کے روز کھیلے گئے میچ میں جنوبی افریقہ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 187 رنز بنائے۔
جنوبی افریقہ کی جانب سے رایان رکلٹن نے 28 گیندوں پر چار چھکوں اور پانچ چوکوں کی مدد سے 61 رنز بنائے۔ ان کے علاوہ جنوبی افریقہ کی جانب سے دوسرے نمایاں بلے باز کوئنٹن ڈی کاک رہے جنھوں نے 41 گیندوں پر 59 رنز بنائے۔
افغانستان کی جانب سے عظمت اللہ عمر زئی نے تین جبکہ راشد خان نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
رحمان اللہ گرباز نے افغانستان کی بیٹنگ کو شاندار آغاز فراہم کیا اور ابراہیم زردان کے ساتھ 50 رنز سے زائد کی اوپننگ پارٹنرشپ کھیلی۔
تاہم افغانستان کی پہلی وکٹ اس وکٹ گری جب زردان پانچویں اوور میں 10 گیندوں میں 12 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے افغانستان کی مزید دو وکٹیں گر گئیں لیکن گرباز نے اپنی اننگز جاری رکھی۔

Leave a Reply