اگلی بار جب آپ پورے چاند سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ’تھیا‘ کے بارے میں سوچنے کے لیے ایک لمحہ ضرور نکالیں۔
یہ نام سائنسدانوں نے ایک فرضی سیارے کو دیا ہے جو شاید 4.5 بلین سال پہلے نئی بننے والی زمین سے ٹکرایا تھا اور اسی ٹکراو کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ایک بڑا ٹکڑا بعد میں ہمارا چاند بن گیا۔
اس نظریے کے مطابق، تھییا کی ’کائناتی قربانی‘ کے بغیر یہ قدرتی سیٹلائٹ نہیں ہوتا اور آپ شاید یہ مضمون بھی نہ پڑھ رہے ہوتے۔
چند سائنسدانوں کا خیال ہے کہ زمین اور مریخ کے حجم جتنے ایک سیارت کے درمیان ایک بڑے تصادم نے اتنا مواد پیدا کیا کہ وہ آہستہ آہستہ اکٹھا ہو کر چاند بنا۔
اس واقعے نے، جسے ’جائنٹ امپیکٹ ہائپوتھیسس‘ کہا جاتا ہے، ایک ایسے رشتے کی بنیاد ڈالی جس کی زندگی کے لیے اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری چیزوں کے علاوہ، چاند زمین پر کشش ثقل کی وجہ بھی ہے، جس نے زمین کو اربوں سال سے اپنے محور پر مستحکم رکھا ہوا ہے اور اسی وجہ سے ہمیں ایک مستحکم آب و ہوا میسر ہے۔
جرمنی میں میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار سولر سسٹم ریسرچ کے سائنسدان پروفیسر تھورسٹن کلین بتاتے ہیں کہ آب و ہوا میں استحکام کے بغیر، ہمارے پاس بہت زیادہ شدید موسمی حالات ہوتے، جو زندگی کی نشوونما کے لیے سازگار نہیں ہوتے۔
کلین سائنسدانوں کی ایک ایسی بین الاقوامی ٹیم کا حصہ تھے جس نے گزشتہ نومبر میں زمین کے ساتھ اس اہم لیکن پراسرار تصادم پر مزید روشنی ڈالنے کی کوشش کی۔

Leave a Reply