ڈھاکہ یونیورسٹی کے درودیوار پھر سے گونج رہے ہیں۔ راہداریوں کی دیواروں پر لکھی گئی تحریروں اور نقش و نگار میں غصہ بھی ہے، طنز بھی اور شاعری بھی۔
یہ جولائی 2024 میں جین زی (نوجوان نسل) کی قیادت میں برپا کی گئی اس بغاوت کی بازگشت ہے جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کے 15 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا۔ شیخ حسینہ واجد کبھی بنگلہ دیش میں جمہوریت کی علامت سمجھی جاتی تھیں، لیکن ناقدین کے مطابق اُن کا رویہ آمرانہ ہوتا گیا اور پھر ایک طویل احتجاج کے بعد وہ انڈیا فرار ہو گئیں۔
طلبہ چھوٹے چھوٹے گروپوں میں جمع ہو کر سیاست پر بحث کرتے ہیں۔ نئے چینی سال کی تقریبات کے لیے ایک بے ترتیب سے گھاس کے قطعے پر سرخ لالٹینیں جھول رہی ہیں۔
یہ ایک چھوٹی مگر معنی خیز علامت ہے، ایسے ملک میں جہاں اثر و رسوخ کے لیے بیجنگ اور دہلی سخت مقابلہ کر رہے ہیں۔ 12 فروری کو جو انتخابات ہونے جا رہے ہیں، ان میں بہت سے لوگ پہلی بار حقیقی طور پر ووٹ ڈالیں گے۔
شیخ حسینہ کے زوال کے چند دن بعد نوبیل امن انعام حاصل کرنے والے محمد یونس نے اقتدار سنبھالا۔ اقوام متحدہ کے مطابق سنہ 2024 کی ظالمانہ سکیورٹی کارروائیوں میں تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ زیادہ تر ہلاکتیں سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں ہوئیں۔
ان ہلاکتوں پر شیخ حسینہ کو اُن کی غیرحاضری میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ لیکن شیخ حسینہ اب دہلی میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہیں اور انڈیا نے انھیں واپس بھجوانے سے انکار کر دیا ہے۔
ان کی عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے جو ملک کی سب سے پرانی سیاسی جماعت ہے اور تقریباً 30 فیصد عوامی ووٹ حاصل کرتی تھی۔ نظریاتی طور پر عوامی لیگ ایک آزاد خیال معتدل جماعت تھی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب حزب مخالف کی مرکزی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) عوامی لیگ کا چھوڑا گیا نظریاتی خلا پُر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسلام پسند جماعتوں میں جماعت اسلامی نمایاں ہے، جس نے طلبہ کی بغاوت سے جنم لینے والی ایک نئی جماعت کے ساتھ اتحاد کر لیا ہے۔
لیکن جامعہ کی حدود میں اور حدود سے باہر لگنے والے نعرے صرف بنگلہ دیش میں جمہوریت کے بارے میں نہیں ہیں۔ ان نعروں میں سرحد پار کی طرف اشارے بڑھتے جا رہے ہیں۔