رواں برس جنوری میں جرمن اخبار بِلڈ نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سکی جمپرز مقابلوں میں چھلانگ لگانے کے لیے استعمال ہونے والے سوٹ کی پیمائش سے قبل اپنے عضو تناسل میں ہائیلورونک ایسڈ کے انجیکشن لگا رہے ہیں۔
اب عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) کا کہنا ہے کہ اگر انھیں بات کے شواہد مل جاتے ہیں کہ مرد سکی جمپرز مقابلوں کے دوران اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اپنے عضو تناسل میں انجیکشن لگا رہے ہیں تو اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز ہو سکتا ہے۔
لیکن یہ معاملہ ہے کیا؟
ویسے تو کھیلوں میں ہائیلورونک ایسڈ کے استعمال پر پابندی نہیں۔ جرمن اخبار کی رپورٹ کے مطابق، ہائیلورونک ایسڈ کے انجیکشن کی مدد سے عضو تناسل کی موٹائی کو ایک سے دو سینٹی میٹر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
اس سے کھلاڑیوں کی جانب سکی مقابلے کے دوران استعمال کیے جانے والے ان کے سوٹ کی کُل سطح کا رقبہ بڑھ جائے گا۔ بین الاقوامی سکی اور سنو بورڈ فیڈریشن ایس آئی ایس کے مطابق، سوٹ کا سائز بڑھنے سے سکی جمپر کو ہوا میں اپنی پرواز کو بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ایف آئی ایس کے سکی جمپنگ کے مردوں کے مقابلے کے ڈائیریکٹر سینڈرو پرٹائل کہتے ہیں سوٹ کے ہر ایک اضافی سینٹی میٹر سے بہت فرق پڑتا ہے۔ ’اگر آپ کے سوٹ کی سطح کا رقبہ محض پانچ فیصد بڑھ جائے تو آپ زیادہ دوری تک پرواز کر پائیں گے۔‘
جب میلان کورٹینا سرمائی اولمپکس میں ایک پریس کانفرنس میں عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل اولیور نگلی سے بِلڈ کی رپورٹ میں کیے گئے دعووں کے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں سکی جمپنگ کی تفصیلات سے واقف نہیں، اور مجھے نہیں معلوم کہ اس سے کارکردگی کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔‘