پاکستان میں بجلی کے شعبے کے نگران ادارے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا کی جانب سے ملک میں سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ متعارف کروانے کے بعد بہت سے لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ یہ نیا نظام کیا ہے اور اس سے سولر سسٹم کا استعمال کرنے والے نئے اور پرانے صارفین کیسے متاثر ہوں گے؟
نیپرا کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے نئے قواعد کے تحت نیٹ میٹرنگ سے منسلک پرانے صارفین بھی اب نیٹ بلنگ کے نظام پر منتقل کر دیے جائیں گے جبکہ نئے صارفین کے لیے متعارف کرائے گئے قواعد میں ‘نیٹ بلنگ’ کے نظام سے منسلک ہونے کے علاوہ ان کے نیپرا کے ساتھ معاہدوں کی مدت پانچ سال کر دی گئی ہے۔
اس نئے نظام سے بنیادی تبدیلی یہ آئے گی کہ نیپرا کے نئے قواعد کے تحت اب سولر صارفین اپنی اضافی بجلی پہلے سے زیادہ سستے داموں فروخت کریں گے جبکہ انھیں اپنی ضرورت کے لیے بجلی مہنگے ٹیرف پر خریدنی ہو گی۔ اس سے پہلے نیٹ میٹرنگ کے تحت صارفین جتنی بجلی بناتے تھے، اتنا ہی بجلی کا بل کم ہو جاتا تھا۔
پاکستان میں نیٹ میٹرنگ کے نظام میں ہونے والی یہ پہلی تبدیلی نہیں ہے۔ گزشتہ سال مارچ میں وفاقی حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے صارفین سے بجلی کی خریداری کی قیمت گیارہ روپے کر دی گئی تھی۔
پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے حالیہ برسوں میں سولر سے بجلی پیدا کرنے کے رجحان کر فروغ ملا ہے جس کی وجہ سولر پینلوں کا سستا ہونا ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں اس وقت سولر سسٹمز سے تقریبا 7000 میگاواٹ کے لگ بھگ بجلی پیدا کی جا رہی ہے جس میں نیٹ میٹرنگ کے علاوہ نان نیٹ میٹرنگ سولر صارفین بھی شامل ہیں۔
پاکستان میں توانائی شعبے کے ماہرین کے مطابق نیپرا کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے نظام کی وجہ ملک میں قومی گرڈ سے بجلی کی کم کھپت ہے جسے حکومت بڑھانا چاہتی ہے۔
تاہم ان کے مطابق نیٹ بلنگ کا نیا نظام صارفین کو بیٹری سسٹم کو اپنانے پر مجبور کر سکتا ہے کیونکہ نیٹ بلنگ کے نظام کی شرائط کے بعد اب یہ نظام سولر صارفین کے لیے زیادہ پرکشش نہیں رہا۔