انڈیا کی ریاست آسام میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ایک ایسی متنازع اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے بنائی گئی ویڈیو پوسٹ کیے جانے پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے جس میں ریاست کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا شرما کو ایک بندوق کی مدد سے دو ایسے افراد کا نشانہ لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے جنھوں نے سروں پر ٹوپیاں پہن رکھی ہیں جبکہ ایک شخص کی داڑھی ہے۔
آسام بی جے پی کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی اس اے آئی ویڈیو کا عنوان ’پوائنٹ بلینک شاٹ‘ تھا اور اس پر انگریزی میں لکھا گیا تھا کہ ’کوئی رحم نہیں کیا جائے گا۔‘
سوشل میڈیا پر اس اے آئی ویڈیو کے خلاف سامنے آنے والے شدید ردعمل کے پیش نظر بی جے پی آسام نے معذرت یا کوئی جواز دیے بغیر اسے اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے ڈیلیٹ کر دیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ ہیمنٹ بسوا شرما نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وضاحت دی ہے کہ انھوں نے نہ تو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ اس ویڈیو کو دیکھا اور نہ ہی اس ویڈیو کو ان کے کسی سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شیئر کیا گیا۔
تاہم اس وضاحت کے باوجود مجلس اتحاد المسلیمن کے صدر اسد الدین اویسی نے حیدرآباد میں وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کے خلاف درخواست جمع کروائی گئی ہے۔
اس درخواست پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ شرما نے کہا ہے کہ ’میں جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ اور میں کیا کر سکتا ہوں؟ مجھے کسی ویڈیو کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔ اگر انھوں (پولیس) نے میرے خلاف مقدمہ درج کیا ہے تو مجھے گرفتار کر لیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن میں اپنے الفاظ پر قائم ہوں، میں بنگلہ دیشی دراندازوں کے خلاف ہوں اور ہمیشہ اُن کے خلاف رہوں گا۔‘
یاد رہے کہ آسام میں اپریل 2026 کے اوائل میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور اسی تناظر میں بی جے پی آسام کے آفیشل اکاؤنٹ سے یہ اے آئی ویڈیو شیئر کیے جانے کا معاملہ کافی توجہ حاصل کر رہا ہے۔
اپوزیشن پارٹی کانگریس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے ’یہ (اے آئی) ویڈیو اقلیتوں کے پوائنٹ بلینک قتل کے لیے اکسا رہی ہے۔ یہ انتہائی پریشان کن اور نفرت انگیز ہے اور اسے محض نفرت کا ایک پیغام نہیں سمجھا جانا چاہیے۔‘
آسام کی علاقائی جماعت ترنمول کانگریس نے بھی اس کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ’یہ (اے آئی) ویڈیو قتل عام کے لیے کھلا سگنل ہے۔ الیکشن کمیشن کو خاموش تماشائی نہیں بنا رہنا چاہیے۔ اسے ایک مخصوص (مسلم) برادری کے خلاف اس کھلے نفرت انگیز اشتہار کا نوٹس لینا چاہیے۔‘