اِسے ہم معما ہی کہہ سکتے ہیں کہ ایک طرف انسانی عقل ڈیجیٹل دنیا آباد کر کے اس پر حاوی ہوچکی ہے، اور دوسری جانب یہی دنیا ہماری نئی نسل کے بچپن کو خاموشی سے نگل رہی ہے۔ وہ بچپن جو کبھی گلیوں کی دھول، کتابوں کی خوشبو اور ماں کی لوری سے پہچانا جاتا تھا، اب اسکرین کی نیلی روشنی، الگورتھم کی گرفت اور نادیدہ دنیا کے بے رحم تقاضوں میں قید ہو چکا ہے۔ ایسے میں اگر فرانس کی قومی اسمبلی یہ اعلان کرے کہ پندرہ برس سے کم عمر بچّوں کے لیے سوشل میڈیا پر قانونی قدغن لگائی جا رہی ہے، تو بلاشبہ یہ کسی نعمت سے کم نہیں۔ گویا اب دنیا میں یہ شعور بیدار ہورہا ہے کہ ڈیجیٹل ورلڈ کے نام پر ہمارے گھروں میں فساد و فتنے پالے جارہے ہیں۔
فرانس میں منظور ہونے والا یہ بل جو اب سینیٹ کی منظوری کا منتظر ہے، دراصل اس اعتراف کا نام ہے کہ سوشل میڈیا اب تفریح یا اظہار کا ذریعے کے بجائے ایک ایسا طاقتور نفسیاتی ہتھیار بن چکا ہے جو کم عمر ذہنوں کو روند رہا ہے۔ فرانسیسی قانون سازوں کا مؤقف واضح ہے: کم عمر بچوں میں سوشل میڈیا کا بے تحاشا استعمال ذہنی دباؤ، تشدد کے رجحانات، سماجی تنہائی اور نفسیاتی بیماریوں کو جنم دے رہا ہے۔ اسی لیے نہ صرف سوشل میڈیا پر پابندی کی بات کی جا رہی ہے بلکہ اسکولوں میں اسمارٹ فونز پر عائد قدغن کو ہائی اسکول تک پھیلانے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔
فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون پہلے ہی سوشل میڈیا کو نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے تشدد اور منفی رویوں کی ایک بڑی وجہ قرار دے چکے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ مسئلہ محض اخلاقی نہیں بلکہ قومی سلامتی اور سماجی بقا سے جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرانس آسٹریلیا کے نقشِ قدم پر چلنے کے لیے آمادہ نظر آتا ہے۔ آسٹریلیا، جس نے دسمبر 2025 میں دنیا میں پہلی بار سولہ برس سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی عائد کی، اس بحث کا مرکز بن چکا ہے۔ آسٹریلوی حکومت کا استدلال نہایت دو ٹوک ہے: سوشل میڈیا بچوں کو اضطراب، ڈپریشن، آن لائن بُلنگ اور تنہائی کی دلدل میں دھکیل رہا ہے۔
ڈنمارک نے بھی پندرہ برس سے کم عمر بچّوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کا اعلان کیا ہے، اگرچہ والدین کی اجازت کے ساتھ کچھ نرمی رکھی گئی ہے۔ وجہ وہی جو ہم بھی بھگت رہے ہیں؛ نیند کی کمی، توجہ کی بربادی، اور سماجی اقدار کا زوال۔ ناروے نے سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے کو والدین کی رضامندی سے مشروط کر دیا ہے، کیونکہ مطالعات میں سامنے آیا ہے کہ سوشل میڈیا بچوں کی خود اعتمادی کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یورپ کے دیگر ممالک برطانیہ، جرمنی، اٹلی، اسپین اور یونان بھی اسی سمت میں سوچ رہے ہیں۔ کہیں عمر کی تصدیق کے سخت قوانین زیرِ بحث ہیں، کہیں اسکولوں میں موبائل فونز پر پابندی کی بات ہو رہی ہے۔ ایشیا میں جنوبی کوریا نے رات کے اوقات میں بچّوں کے لیے گیمنگ اور سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جب کہ انڈونیشیا اور ملائیشیا عمر کی تصدیق کے نظام کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ امریکہ میں بھی متعدد ریاستیں اسکولوں میں موبائل فونز پر پابندی لگا چکی ہیں۔
بین الاقوامی رپورٹیں اور سائنسی مطالعات کے بعد ماہرین اس امر پر متفق ہیں کہ سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال، خصوصاً روزانہ تین گھنٹے سے زائد، بچوں اور نوعمروں کی ذہنی صحت پر گہرے منفی اثرات مرتب کررہا ہے۔ امریکہ کے سرجن جنرل کی حالیہ ایڈوائزری کے مطابق سوشل میڈیا بچوں کے لیے مکمل طور پر محفوظ نہیں، جب کہ Longitudinal study سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ بارہ سے پندرہ سال کی عمر میں زیادہ استعمال ذہنی بگاڑ کے امکانات کو دوگنا کر دیتا ہے۔ یونیسف کے مطابق دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک بچہ آن لائن ہراسانی کا سامنا کرتا ہے، جس کے نفسیاتی اثرات بعض اوقات خودکشی کے خیالات تک پہنچ جاتے ہیں۔ خوب صورتی کے غیر حقیقی معیار، فلٹر شدہ تصاویر اور مسلسل موازنہ نوعمر بچّوں، خاص طور پر بچیوں میں خود اعتمادی کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جسمانی ساخت سے عدم اطمینان، کھانے پینے کے مسائل اور نفسیاتی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جو آہستہ آہستہ شخصیت کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے اور بچّے کو تنہائی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔
اب ذرا پاکستان کی طرف دیکھیے، ایک ایسا ملک جہاں آبادی کا تقریباً چالیس فیصد حصہ پندرہ سال سے کم عمر بچّوں پر مشتمل ہے۔ اکتوبر 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد تقریباً 79.9 ملین ہے، جو کُل آبادی کا 31 فیصد بنتی ہے۔ فیس بک کے صارفین ہی 63 ملین سے زائد ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ پندرہ سال سے کم عمر بچّوں کے حوالے سے کوئی مستند سرکاری ڈیٹا موجود نہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ لاکھوں بچّے سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، حالاں کہ بیشتر پلیٹ فارمز سے جڑنے کی کم از کم عمر تیرہ سال مقرر ہے۔
پاکستانی بچّوں کا ڈیجیٹل رویہ تشویش ناک صورت اختیار کررہا ہے۔ یہ بچّے کیا دیکھتے ہیں؟ کیا سرچ کرتے ہیں؟ مختصر ویڈیوز، پرتشدد گیمز، غیر اخلاقی مواد، فضول چیلنجز، اور ایسی دنیا جو انہیں فوری تسکین تو دیتی ہے مگر سوچنے، برداشت کرنے اور جینے کی صلاحیت چھین لیتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 2 سے 12 سال کے بچّوں میں موبائل استعمال کے نتیجے میں 53 فیصد رویوں کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، جب کہ 77 فیصد بچّے موبائل کی لت کا شکار ہو چکے ہیں۔ نیند کی کمی، مٹاپا، توجہ کی کمی، غصہ، اور آن لائن ہراسانی یہ سب ہمارے گھروں کے اندر بھی پنپ رہے ہیں۔ کووڈ کے بعد یہ مسئلہ مزید سنگین ہو چکا ہے۔ آن لائن تعلیم کے نام پر دی گئی اسکرین نے بچوں کی علمی کارکردگی کو عارضی سہولت تو دی، مگر طویل المدت نقصان کہیں زیادہ ہوا۔ خاندانی روابط کمزور پڑ گئے، اور بچے مجازی دنیا میں رہ کر حقیقی سماج سے کٹنے لگے۔
تعجب تو اِس کا ہے کہ پاکستان، ایک اسلامی ملک ہونے کے باوجود بھی اس طرف سے آنکھیں بند کیے ہوئے جو اس کے اسلامی تشخص پر اثرانداز ہو رہا ہے۔ اسلام ہمیں اعتدال سکھاتا ہے۔ اسلام ایک ضابطۂ حیات کا نام ہے اور اسلامی تعلیمات ہمیں وقت کی قدر، نفس کی حفاظت اور فتنوں سے بچاؤ کی تعلیم دیتی ہیں۔ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر شخص اپنے عیال اور ماتحتوں کا ذمہ دار ہے۔ یہ ذمہ داری والدین پر بھی عائد ہوتی ہے، ریاست پر بھی، اور پورے معاشرے پر بھی۔ بچّوں کی ذہنی و اخلاقی صحت اور اس بنیاد پر ان کا تحفظ کوئی مغربی ایجنڈا نہیں، بلکہ اسلامی فریضہ ہے۔ اگر اپنی نسلوں کو بچانا ہے تو وعظ سے آگے بڑھ کر کچھ عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ پاکستان میں حکومت کو سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق آگاہی مہمات کے ساتھ پی ٹی اے کے ذریعے ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔ دوسری طرف جسمانی سرگرمیوں اور کھیلوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں لائبریریوں کا احیاء، اور ہماری تہذیب اور اسلامی تشخص پر مبنی متبادل سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے باقاعدہ حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی۔ جدید اور ترقی یافتہ ممالک میں اس حوالے سے فیصلے کیے جارہے ہیں، تو بہتر ہے کہ ہم بھی جاگ جائیں اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کریں کیونکہ اگر ہم نے آج اپنے بچّوں کو ڈیجیٹل غلامی سے آزاد نہ کیا، تو کل ہمیں ایک ایسی نسل ملے گی جو اسکرین تو دیکھ سکے گی، مگر زندگی کے حسین رنگ نہیں۔