بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت متعدد شہروں میں سنیچر کے روز ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں کے بعد صوبے میں تاحال حالات کشیدہ ہیں۔ صوبے میں عوامی اجتماعات پر پابندی برقرار ہے جبکہ کوئٹہ میں شہریوں کو انٹرنیٹ تک رسائی میں دشواری کا سامنا ہے۔
اتوار کو صوبے کے وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بُگٹی ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بلوچستان میں گذشتہ 40 گھنٹوں کے دوران کیے گئے آپریشنز میں 145 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں، جن کی لاشیں بھی ان کے پاس موجود ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سنیچر کے روز ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر 31 شہری اور 17 سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
اس سے قبل سنیچر کی شب پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد شہروں میں ہونے والے حملوں میں کم از کم 92 شدت پسند اور 15 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس سے قبل جمعہ کے روز پنجگور اور شابان میں مختلف کارروائیوں میں 41 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا، جس کے بعد دو روز میں ہلاک کیے جانے والے شدت پسندوں کی تعداد 133 ہو گئی ہے۔