’خاندان کے ایک فرد کی موت کا غم ابھی تک تازہ تھا کہ ہمارے مزید دو بزرگ افراد کو ماردیا گیا۔ ہمارے دونوں عمر رسیدہ افراد کسی بھی مقدمے میں مطلوب نہیں تھے بلکہ پورے علاقے میں وہ خیرخواہ کی حیثیت سے مشہور تھے۔‘
بلوچستان کے ضلع پشین سے تعلق رکھنے والے سید طفیل شاہ نے اپنے خاندان کے دو عمر رسیدہ افراد سید عبدالرحیم شاہ اور سید عبد القدیم شاہ کی موت کو خاندان کے لیے ایک بڑا سانحہ قرار دیا ہے۔ یہ افراد پشین کے علاقے کلی کربلا میں محکمۂ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کی ایک کارروائی میں مارے گئے تھے۔
سید عبدالرحیم شاہ اور سید عبد القدیم شاہ کے مارے جانے پر سی ٹی ڈی کی اس کارروائی کے حوالے سے ایک تنازع کھڑا ہوگیا ہے کیونکہ ان افراد کے رشتہ داروں اور علاقہ مکینوں کے مطابق یہ دونوں افراد ان چھ ثالثوں میں شامل تھے جو متعلقہ حکام کی اجازت سے ملزمان سے بات چیت کے لیے گئے تھے تاکہ ان کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرایا جاسکے۔
بلوچستان پولیس اور سی ٹی ڈی کے حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی علاقے میں سنگین واقعات میں مطلوب ملزم سید ثنا اللہ آغا اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کی گئی جس میں ثنا اللہ آغا کے دو سگے بھائیوں سمیت چھ افراد مارے گئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں سی ٹی ڈی کے 10 اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔
اس واقعے کے حوالے سے ہونے والی پریس کانفرنس میں سی ٹی ڈی بلوچستان کے سربراہ اعتزاز گورایا نے عبد القدیم شاہ اور عبدالرحیم شاہ کے ثالثوں میں شامل ہونے کے دعوے کو مسترد کیا ہے۔