کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایرانی تیل کی قیمتوں فی لیٹر چالیس روپے سے پچاس روپے تک کا اضافہ ہوا ہے۔
ایرانی تیل کے کاروبار سے وابستہ افراد نے ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کو قرار دیا ہے۔
بلوچستان کے اکثر علاقوں میں طویل عرصے پاکستانی تیل کمپنیوں کا تیل دستیاب نہیں جس کی وجہ سے نہ صرف ایران سے متصل سرحدی علاقوں بلکہ زیادہ تر دیگر علاقوں میں لوگوں کا انحصار ایرانی تیل پر ہے۔
تنازعہ کے بعد ایران کے فی لیٹر تیل کتنے روپے میں فروخت ہو رہا ہے؟
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایرانی تیل کے کاروبار سے وابستہ محمد دانیال نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ڈیڑھ ہفتے قبل تک کوئٹہ میں فی لیٹر ایرانی پیٹرول 180 روپے میں فروخت ہورہا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ گزشتہ دو تین روز سے اس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے جمعرات کو اس کے فی لیٹر کی قیمت 230 روپے تک پہنچ گئی ۔

Leave a Reply