کالم:وجیہ احمد صدیقی
پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کے لیے مشرق وسطیٰ کا بحران کوئی نئی بات نہیں، لیکن اس بار صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔ ہرمز کے سمندری راستے کی ممکنہ بندش، امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی، اور عالمی تیل کی سپلائی میں خلل نے پاکستان کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ اسی بحران کی وجہ سے حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 25 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 45 سے 50 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا ہے، جو عوام پر مزید مہنگائی کا بوجھ ڈالے گا۔ ایک طرف ورک فرام ہوم اور ڈسٹنس لرننگ جیسے اقدامات کا اصولاً فیصلہ ہو رہا ہے، وہیں دوسری طرف قیمتیں بڑھا کر لوگوں کی کمر توڑ دی جا رہی ہے۔ یہ وقت ہے کہ حکومت اپنے اعلیٰ افسران کی مراعات پر نظر ثانی کرے، مفت پٹرول، مفت بجلی، مفت علاج اور گھروں کے کرایوں جیسی سہولتوں فوری ختم کرے، تاکہ قومی خزانہ بچے اور عوام کو راحت ملے۔
حکومت کی تازہ ترین میٹنگ میں، جو 4 مارچ 2026 کو ہوئی، کیبنٹ کمیٹی برائے انرجی نے ایندھن کی بچت کے لیے ورک فرام ہوم، آن لائن تعلیم اور کار پولنگ کا فیصلہ کیا۔ معتبر ذرائع کی رپورٹ کے مطابق، یہ اقدامات تیل کی ممکنہ قلت سے نمٹنے کے لیے ہیں، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں تنازعے کی وجہ سے سعودی عرب اور دیگر ذرائع سے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو 5 مارچ کو قومی ایکشن پلان پیش کیا جائے گا، جس میں پٹرول کی قیمتیں بڑھانا بھی شامل ہے۔ بعض غیر ملکی اخباری رپورٹیں بتاتی ہیں کہ پاکستان سعودی عرب سے اضافی تیل کی مدد لے رہا ہے، لیکن عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ دیگر سوشل میڈیا ذرائع میں بھی اس بات کا ذکر ہے کہ ایران کی کارروائیوں نے پاکستان کو آن لائن کلاسز کی طرف دھکیل دیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جب بحران تیل کی درآمد کا ہے تو عوام کی جیبوں پر ڈاکا کیوں ڈالاجارہا ہے؟ پٹرول کی قیمت میں 25 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 45-50 روپے بڑھنے سے ٹرانسپورٹ، ٹیکسیاں، بسوں اور نجی گاڑیوں کا خرچ آسمان سے باتیں کرے گا۔ اشیائے خورو نوش کی قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی، غریب آدمی روٹی، دال اور سبزی تک نہ خرید سکے گا۔ مہنگائی کی شرح پہلے ہی 20 فی صد سے زائد ہے، یہ اضافہ اسے مزید بڑھا دے گا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ قومی ذخائر مناسب ہیں، لیکن آئی ایم ایف سے مشاورت کے باوجود عوام پر براہ راست بوجھ ڈالنا غلط ہے۔ یہاں اصل مسئلہ حکومت کی مراعات کا ہے۔ اعلیٰ سرکاری افسران کو ماہانہ 600 لیٹر سے لے کر ایک ہزار لیٹر تک مفت پٹرول ملتا ہے، جو ایک عام شہری کی تنخواہ سے بھی زیادہ مالیت کا ہے۔ اگر ہر افسر کو یہ مفت دیا جائے تو لاکھوں لیٹر پٹرول ضائع ہو رہا ہے۔ اسے فوری بند کیا جائے! کسی کو بھی ایک لیٹر بھی مفت نہ دیا جائے۔ اسی طرح مفت بجلی کے کوٹے، مفت علاج کی سہولت اور سرکاری گھروں کے کرایوں پر بھی مکمل پابندی لگائی جائے۔ یہ لوگ لاکھوں روپے تنخواہ کی مد میں بھی وصول کرتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ اراکین پارلیمنٹ اور وزرا کی تنخواہوں کا حجم بھی اربوں اور کھربوں روپے میں ہے اور انہیں بھی مفت پٹرول اور مفت بجلی اور مفت ٹیلی فون مفت علاج اور مفت کرایوں کی مراعات حاصل ہیں انہیں بھی اس سے دستبردار ہونا ہوگا بلکہ ان کے لیے تو یہ سب سے زیادہ شرمناک ہے کہ وہ عوام کی خدمت کے بجائے ان کی جیبوں پر ڈاکا ڈال رہے ہیں۔
معتبر میڈیا کے ذرائع کی خبریں بتاتی ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی شہریوں سمیت کئی ممالک کے شہریوں کو خلیجی ممالک سے نکالا جا رہا ہے، ان ممالک کے لوگ اپنے شہریوں کے لیے رقوم خرچ کر رہے ہیں ان کے لیے اخلاص اور ایثار کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت کو بھی اپنے عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنا چاہیے نہ کہ ان کو الٹی چھری سے ذبح کرنے کے اقدامات کریں۔ پاکستان کو بھی بحران کا سامنا ہے، تو وزرا اور اراکین پارلیمنٹ اور سرکاری افسران کی مراعات کا خاتمہ کیوں نہیں؟ حکومت کو چاہیے کہ پہلے اپنے اخراجات کم کرے۔ مثال کے طور پر، اگر تمام سرکاری افسران کو مفت پٹرول بند کر دیا جائے تو ہر سال اربوں روپے بچ سکتے ہیں۔ فرض کریں 50 ہزار افسران کو 600 لیٹر ماہانہ ملتے ہیں، پٹرول کی موجودہ قیمت 250 روپے فی لیٹر مان لیں تو ایک افسر پر 1.5 لاکھ روپے ماہانہ، کل 75 ارب روپے سالانہ! یہ رقم تیل کی درآمد پر استعمال ہو سکتی ہے۔ اسی طرح بجلی کے مفت یونٹس اور ہاﺅسنگ الاﺅنسز بھی ختم کریں۔ وزیروں اور سرکاری افسران کی تنخواہوں پر بھی مکمل ٹیکس عائد ہو، کوئی رعایت نہ دی جائے۔ یہ اقدامات قومی خزانے کو مضبوط کریں گے اور عوام کو ریلیف دیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے بحرانوں میں دوسرے ممالک کے حکمرانوں نے اپنی مراعات قربان کی ہیں۔ کووڈ-19 کے دوران بھی کچھ ممالک نے سرکاری مراعات کم کی تھیں۔ پاکستان میں 2020 میں ورک فرام ہوم کا تجربہ کامیاب رہا ہے۔ اب پھر وہی وقت ہے۔ فیس بک پوسٹس اور نیوز رپورٹوں میں عوام کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں کہ بحران میں سب برابر ہوں۔ اگر حکومت پٹرول کی قیمتیں نہ بڑھائے اور مراعات ختم کرے تو مہنگائی کنٹرول میں رہے گی۔ سعودی مدد اور متبادل ذرائع تلاش کریں، لیکن عوام کو نچوڑنا غلط ہے۔ وزیر خزانہ اور پٹرولیم کو فوری ایکشن لینا چاہیے۔ عوام کی تنخواہوں، پنشنز اور سبسڈیز بڑھائی جائیں، نہ کہ قیمتیں۔ اس مضمون کا پیغام واضح ہے: تیل بحران کا حل مراعات کا خاتمہ ہے، نہ کہ عوام پر ٹیکس۔ حکومت سنے تو اچھا، ورنہ عوام کا غم و غصہ بڑھے گا۔ قومی مفاد سب سے مقدم ہے!
مشرق وسطیٰ تیل بحران؛ مفت مراعات ختم کی جائیں!
adminshuja
اگلی خبر →
رجیم چینج کے پوسٹر بوائے

Leave a Reply