کالم :ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
عصرِ حاضر کی عالمی سیاست ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں طاقت، معیشت اور جغرافیہ باہم اس طرح گتھم گتھا ہو گئے ہیں کہ کسی ایک خطے میں بھڑکنے والی جنگ پوری دنیا کے سیاسی و معاشی نظام کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ اسی حقیقت کی ایک واضح مثال ہے۔ یہ تصادم محض دو ریاستوں کا عسکری ٹکراﺅ نہیں بلکہ درحقیقت عالمی طاقتوں کے مفادات، توانائی کی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل پر جاری ایک بڑی کشمکش کی علامت ہے۔ فروری 2026 میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کے بعد خطہ ایک نئی جنگی کیفیت میں داخل ہوگیا جس کے نتیجے میں ایران نے نہ صرف اسرائیلی اہداف بلکہ خلیج میں موجود امریکی مفادات پر بھی جوابی کارروائیاں شروع کر دیں۔ اس تصادم نے مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست کو ایک نئے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس جنگ کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کے اثرات میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی سیاست پر براہ راست اثر انداز ہوئے ہیں۔ خلیج فارس میں واقع آبنائے ہرمز عالمی توانائی کے نظام کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے اور دنیا کی تقریباً بیس فی صد تیل کی ترسیل اسی تنگ سمندری راستے سے گزرتی ہے۔ جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی اس راستے میں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی اور سیکڑوں بحری جہاز خطرات کے باعث ر±ک گئے۔ نتیجتاً عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتیں تیزی سے بڑھنے لگیں اور کئی ممالک کو توانائی کے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔
توانائی کے اس بحران نے عالمی سیاست میں ایک نئی حرکیات کو جنم دیا ہے۔ جب بھی تیل کی رسد متاثر ہوتی ہے تو اس کا سب سے پہلا اثر عالمی مہنگائی اور صنعتی پیداوار پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اسرائیل جنگ کو صرف مشرقِ وسطیٰ کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی اقتصادی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر خلیج میں کشیدگی طویل عرصہ جاری رہی تو عالمی معیشت میں سست روی اور افراطِ زر میں اضافہ ناگزیر ہو سکتا ہے۔ اس جنگ کا ایک اور اہم پہلو عالمی طاقتوں کی صف بندی ہے۔ امریکا اور اسرائیل اس تنازعے میں ایک واضح عسکری اتحاد کے طور پر سامنے آئے ہیں، جبکہ چین اور روس نے اگرچہ براہِ راست فوجی مداخلت نہیں کی لیکن سفارتی سطح پر ایران کے حق میں نرم موقف اختیار کیا ہے اور اسرائیلی حملوں پر تنقید کی ہے۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سیاست ایک مرتبہ پھر طاقت کے متوازی بلاکس کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں مغربی اتحاد اور ابھرتی ہوئی ایشیائی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں۔ تاہم اس جنگ نے روس اور چین کی حدود کو بھی آشکار کیا ہے۔ بظاہر ایران ان دونوں طاقتوں کا شراکت دار سمجھا جاتا ہے، مگر عملی طور پر وہ اس جنگ میں براہِ راست مداخلت سے گریز کر رہے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق روس پہلے ہی یوکرین جنگ میں مصروف ہے اور وہ ایک اور بڑے تنازعے میں الجھنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتا۔ اسی طرح چین اپنی معاشی ترجیحات کے باعث کسی کھلے عسکری اتحاد سے بچنا چاہتا ہے۔ اس صورتحال نے ایران کو ایک حد تک تنہائی کا احساس بھی دلایا ہے۔
ایران کی حکمت عملی بھی روایتی جنگی نظریات سے مختلف نظر آتی ہے۔ اس کا مقصد محض میدانِ جنگ میں فیصلہ کن فتح حاصل کرنا نہیں بلکہ مخالف قوتوں کی قیمت بڑھانا اور خطے میں عدم استحکام پیدا کر کے عالمی طاقتوں کو دباﺅ میں لانا ہے۔ ایران کے میزائل اور ڈرون حملے دراصل ایک ایسی غیر متناسب جنگی حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کے ذریعے وہ اپنے سے زیادہ طاقتور حریفوں کو سیاسی اور اقتصادی سطح پر نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ کا علاقائی توازن بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ خلیجی ممالک ایک پیچیدہ صورتحال میں پھنس گئے ہیں۔ ایک طرف وہ امریکا کے اتحادی ہیں اور ان کی سرزمین پر امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ ایران کے ساتھ براہ راست تصادم سے بھی بچنا چاہتے ہیں کیونکہ کسی بڑی جنگ کا سب سے زیادہ نقصان انہی کے معاشی اور تیل کے ڈھانچے کو پہنچ سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بعض خلیجی ریاستوں نے احتیاطی تدابیر کے طور پر تیل کی پیداوار کم کرنے اور بحری نقل و حمل محدود کرنے کے فیصلے بھی کیے ہیں۔ اس جنگ کا ایک وسیع تر اثر عالمی نظام پر بھی پڑ رہا ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں سے دنیا جس عالمی نظام میں زندگی گزار رہی تھی وہ بتدریج تبدیل ہو رہا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکا کی قیادت میں قائم عالمی نظم اب متعدد علاقائی تنازعات اور طاقت کے نئے مراکز کے باعث کمزور پڑ رہا ہے۔ ایران اسرائیل جنگ اس تبدیلی کی ایک نمایاں علامت ہے کیونکہ اس نے واضح کر دیا ہے کہ عالمی سیاست اب یک قطبی نہیں رہی بلکہ طاقت کے کئی مراکز ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں۔
مزید برآں اس جنگ نے عالمی تجارت کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ جب اہم سمندری راستے غیر محفوظ ہو جائیں تو عالمی تجارت کا پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ نے نہ صرف توانائی بلکہ دیگر تجارتی سامان کی نقل و حمل کو بھی متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔ ان تمام عوامل کو مدنظر رکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ایران اسرائیل جنگ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی سیاست کی ایک بڑی آزمائش ہے۔ اس جنگ نے یہ حقیقت اجاگر کر دی ہے کہ توانائی کے ذخائر، جغرافیائی راستے اور فوجی اتحاد آج بھی عالمی طاقت کی سیاست میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر یہ تنازع طویل ہوتا ہے تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، سفارت کاری اور طاقت کے توازن پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ جنگ دراصل ایک ایسے دور کی علامت ہے جہاں عالمی سیاست تیزی سے نئی سمتوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مستقبل کا عالمی نظام ممکن ہے کہ پہلے سے زیادہ غیر یقینی، کثیر قطبی اور مسابقتی ہو۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تصادم اس تبدیلی کے عمل کو تیز کر رہا ہے اور دنیا کو ایک ایسے عہد کی طرف لے جا رہا ہے جہاں طاقت کی سیاست ایک مرتبہ پھر عالمی فیصلوں کا بنیادی محرک بن سکتی ہے۔

Leave a Reply