ورم ہمارے جسم کا وہ قدرتی ردعمل ہے جو جسم میں داخل ہونے والے بیکٹریا اور وائرسز کے خلاف متحرک ہوتا ہے۔
یہ عمل خون کے سفید خلیات سے متحرک ہوتا ہے۔
اکثر یہ ورم مختصر المدت ہوتا ہے اور جراثیموں کا خاتمہ ہونے پر وہ چند گھنٹوں یا دنوں میں ختم ہو جاتا ہے۔
مگر دائمی ورم کئی ماہ یا برسوں تک برقرار رہتا ہے جس کے نتیجے میں کینسر، امراض قلب، ذیابیفس، دمہ اور دیگر متعدد امرض کا خطرہ بڑھتا ہے۔
دائمی ورم سے دل، پھیپھڑوں، گردوں اور دیگر متعدد جسمانی اعضا متاثر ہوتے ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ اس دوران اکثر تکلیف کا احساس بھی نہیں ہوتا۔
آسان الفاظ میں ہمارے جسم کو بیماروں سے لڑنے اور جلد صحتیابی کے لیے معمولی ورم کی ضرورت ہوتی ہے، مگر اس کے زیادہ وقت تک پھیلاؤ سے ہمارا مدافعتی نظام جسم کے صحت مند اعضا اور ٹشوز پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔
اچھی بات یہ ہے کہ اس سے بچنا اتنا زیادہ بھی مشکل نہیں اور چند آسان عادات کے ذریعے دائمی ورم کے مسئلے سے بچنے میں مدد ملتی ہے

Leave a Reply