Daily Shujaat Quetta
April 11, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
پی ایس ایل 11: ملتان سلطانز نے راولپنڈیزکو 7 وکٹوں سے ہرادیاڈیل نہ ہوئی تو ایران کا ہر پاور پلانٹ اور انفراسٹرکچر تباہ کردیں گے، ٹرمپ کی ایران کو ڈیل کیلئے آج کی ڈیڈلائنپیٹرول پر ٹارگٹڈ سبسڈی کے 2 ہزار روپے براہ راست اکاؤنٹ میں منتقل ہوں گےگوگل کروم میں ایک بہترین فیچر کا اضافہپیٹرولیم مصنوعات میں اضافے نے ہر فرد کو ہلا کر رکھ دیا، فضل الرحمان کا جمعے کو احتجاج کا اعلانبمبار طیارے، ڈرون اور ہیلی کاپٹر، ایران میں امریکی پائلٹ کو ریسکیو کرنے کی نئی تفصیلات سامنے آگئیںاگر امریکا نے ایران میں زمینی فوج اتاری تو اتنے تابوت واپس جائینگےکہ گنتی مشکل ہوجائیگی، ائیر مارشل (ر) ارشد ملکسینئر ایرانی عہدیدار کی پاکستان کی جانب سے فوری جنگ بندی کی تجویز موصول ہونے کی تصدیقایران امریکا سیز فائر تجویز کو ’اسلام آباد اکارڈ‘ کا نام دیا جا رہا ہے: رائٹرزپاکستان نے کرپٹو ڈپلومیسی کے ذریعے امریکا کیساتھ تعلقات بہتر کیے، بھارتی میڈیا پر پاکستانی کامیابیوں کے چرچےپی ایس ایل 11: ملتان سلطانز نے راولپنڈیزکو 7 وکٹوں سے ہرادیاڈیل نہ ہوئی تو ایران کا ہر پاور پلانٹ اور انفراسٹرکچر تباہ کردیں گے، ٹرمپ کی ایران کو ڈیل کیلئے آج کی ڈیڈلائنپیٹرول پر ٹارگٹڈ سبسڈی کے 2 ہزار روپے براہ راست اکاؤنٹ میں منتقل ہوں گےگوگل کروم میں ایک بہترین فیچر کا اضافہپیٹرولیم مصنوعات میں اضافے نے ہر فرد کو ہلا کر رکھ دیا، فضل الرحمان کا جمعے کو احتجاج کا اعلانبمبار طیارے، ڈرون اور ہیلی کاپٹر، ایران میں امریکی پائلٹ کو ریسکیو کرنے کی نئی تفصیلات سامنے آگئیںاگر امریکا نے ایران میں زمینی فوج اتاری تو اتنے تابوت واپس جائینگےکہ گنتی مشکل ہوجائیگی، ائیر مارشل (ر) ارشد ملکسینئر ایرانی عہدیدار کی پاکستان کی جانب سے فوری جنگ بندی کی تجویز موصول ہونے کی تصدیقایران امریکا سیز فائر تجویز کو ’اسلام آباد اکارڈ‘ کا نام دیا جا رہا ہے: رائٹرزپاکستان نے کرپٹو ڈپلومیسی کے ذریعے امریکا کیساتھ تعلقات بہتر کیے، بھارتی میڈیا پر پاکستانی کامیابیوں کے چرچے

ایران ، امریکا تنازع: خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال

کالم:حزب اللہ گولاٹو بلوچ
امریکا، جو طویل عرصے سے عالمی سیاست میں اپنی طاقت کے بل بوتے پر کمزور ممالک پر اثرانداز ہوتاآیا ہے، ایک بار پھر ایران کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔ ایران امریکا تنازع اب محض دو ممالک کے درمیان کشیدگی نہیں رہا بلکہ ایک ایسے وسیع بحران میں تبدیل ہو چکا ہے جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی نظام پر مرتب ہو رہے ہیں۔ اس جنگ کےآغاز سے اب تک کی رپورٹوں کے مطابق ایران میں تقریباً 1600 عام شہری شہید جبکہ 20,000 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ یہ اعداد وشمار نہ صرف اس تنازعے کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ ایک بڑے انسانی المیے کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے بھی بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل سمیت مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنایا۔ سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان اور کویت میں امریکی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں متعدد فوجی اور شہری ہلاک و زخمی ہوئے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جنگ کا دائرہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ مزید برا?ں ایران نے عالمی تجارت کی اہم شاہراہ،آبنائے ہرمز، کو بند کر کے ایک نہایت اہم اسٹرٹیجک قدم اٹھایا۔ دنیا کے تقریباً 20 فی صد خام تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، جس کی بندش نے عالمی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ ترقی پذیر ممالک پر پڑ رہا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق امریکا کو اب تک اربوں ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جو اس کی داخلی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکی عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر مسائل سے دوچار ہیں۔
عالمی سطح پر بھی اس جنگ کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ G-7 ممالک نے امریکا کو جنگ ختم کرنے کا مشورہ دیا، جبکہ ناٹو اتحادیوں نےآبنائے ہرمز کو بحال کرنے کے لیے براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کیا۔ اس صورتحال نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے درمیان بھی اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ پاکستان، ترکی، روس اور چین سمیت کئی ممالک نے سفارتی کوششوں کی پیشکش کی، مگر دونوں فریقین نے ان کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے جنگ جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملوں کا جواز اس کے جوہری پروگرام اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نظام کو قرار دیا، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایران کا قانونی اور پرامن حق قرار دیا۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے بھی ایک پیچیدہ چیلنج بن چکی ہے۔ ایک طرف ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، جبکہ دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی وابستگی موجود ہے۔ حالیہ پیش رفت کے بعد پاکستان پر دباﺅ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس تنازعے میں اپنا کردار واضح کرے۔ اسی دوران مشرق وسطیٰ میں جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو چکا ہے۔ لبنان میں موجود ایرانی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جس کے جواب میں اسرائیل نے لبنان میں شدید حملے شروع کر دیے ہیں، جن میں عام شہری بھی نشانہ بن رہے ہیں۔
اب جنگی صورتحال ایک نہایت خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایران نے بحرِ ہند میں واقع امریکا اور برطانیہ کے مشترکہ بحری اڈے، ڈیگو گارشیا، کو بیلسٹک میزائل حملوں کا نشانہ بنایا، جو اس جنگ کے پھیلاﺅ کی ایک بڑی علامت ہے۔ اس حملے پر یورپی ممالک نے شدید ردعمل دیا، مگر ایران نے واضح کیا کہ دنیا بھر میں موجود جارح قوتوں کے مفادات اس کے جائز اہداف ہیں۔
اسی سلسلے میں ایران نے جنوبی اسرائیل کے شہر ڈیمونا میں کلسٹر وارہیڈ میزائل کے ذریعے حملہ کیا، جہاں اسرائیل کے اہم نیوکلیئر انفرا اسٹرکچر واقع ہیں۔ اس حملے میں متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے اور کئی عمارتیں تباہ ہو گئیں، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے بڑے حملوں کی دھمکی دی، جبکہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا کہ کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ یوں دونوں جانب عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سخت بیانات کا تبادلہ بھی جاری ہے، جو خطرات کو مزید بڑھا رہا ہے۔ادھر امریکا کے اتحادی مسلسل جنگ کے خاتمے پر زور دے رہے ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ یہ تنازع ایک بڑے علاقائی یا عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ایران کی جانب سےآبنائے ہرمز کی مسلسل بندش عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ اس کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا کہ وہ اس گزرگاہ کو کھول دے، بصورت دیگر ایرانی توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایران نے اس دھمکی کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس کے پاور پلانٹس پر حملہ کیا گیا تو خطے میں موجود امریکی اور اس کے اتحادیوں کے توانائی کے انفرا اسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا جائے گا۔ اس تمام صورتحال کے ساتھ ایک اہم پہلو ایران کے سفارتی نقصانات کا بھی ہے۔ خلیجی ممالک پر حملوں کو بعض ماہرین ایران کی سفارتی غلطی قرار دیتے ہیں، کیونکہ اس سے اس کے ان ممالک کے ساتھ بہتر ہوتے تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے سخت ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں سفارتی کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔ تاہم کچھ تجزیہ نگار اسے ایران کی ایک مو?ثر حکمت عملی بھی قرار دیتے ہیں، جس کا مقصد امریکا پر دباو? بڑھانا ہے۔
دوسری جانب ایران کو روس اور چین جیسے اتحادیوں کی جانب سے انسانی امداد کی صورت میں محدود سفارتی حمایت بھی حاصل ہو رہی ہے، جو اسے عالمی سطح پر ایک حد تک اخلاقی برتری فراہم کرتی ہے۔ اسی دوران ایران پر روسی سیٹلائٹ نظام کے استعمال کا الزام بھی لگایا گیا، تاہم اس حوالے سے کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیںآئے اور امریکی حکام نے بھی اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ جنگ صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں بلکہ سفارتی، معاشی اور اطلاعاتی سطح پر بھی جاری ہے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایران- امریکا تنازع اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں معمولی سی غلطی بھی ایک بڑے عالمی تصادم کو جنم دے سکتی ہے۔ ایسے میں اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کی ذمے داری ہے کہ وہ فوری اور مو?ثر سفارتی اقدامات کریں تاکہ اس بحران کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تنازع نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ایک نئے عدم استحکام اور معاشی بحران میں دھکیل سکتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *