امریکا اور اسرائیل کے حملے کا نشانہ بننے والے سابق ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر کمال خرازی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔
امریکا اور اسرائیل نے ڈاکٹر کمال خرازی کے تہران میں واقع گھر پر حملہ کیا تھا جس میں ان کی اہلیہ شہید ہوگئی تھیں جبکہ ڈاکٹر کمال خرازی کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ کوما میں تھے۔
ایران کے انتہائی معتبر ذرائع نے ڈاکٹر کمال خرازی کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ ان کی شہادت نے ایران میں سفارتکاری اور تعلیم کے شعبے میں ایک اہم باب بند کردیا ہے۔
ڈاکٹر کمال خرازی ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبٰی حسینی خامنہ ای کے مشیرتھے، اس سے پہلے وہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کے بھی مشیر تھے۔
کمال خرازی کی عمر 81 برس تھی، وہ ایران کی خارجہ پالیسی ترتیب دینے والی شخصیات میں اہم ترین تصور کیے جاتے تھے۔ وہ امور خارجہ سے متعلق ایران کی اسٹریٹیجک کونسل کے سربراہ بھی تھے، یہ مشاورتی ادارہ ملک کی اعلیٰ ترین قیادت کو خارجہ پالیسی پر سفارشات بھیجتا ہے۔
ایران کے اصلاح پسند صدر محمد خاتمی کے دور میں ڈاکٹر کمال خرازی 1997 سے 2005 کے دوران ایران کے وزیر خارجہ رہے تھے۔
امریکی اخبار کا دعویٰ ہے کہ کمال خرازی پاکستان سے متعلق رابطہ کاری کی بھی نگرانی کررہے تھے، اسی بنیاد پر کمال خرازی پر حملہ سفارتی کوششیں ثبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔
سفارتکاری اور تعلیم کے شعبے میں غیر معمولی مہارت کے حامل ڈاکٹر کمال خرازی کئی کتابوں کے مصنف تھے۔

Leave a Reply