چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ چین کے شہر ارمچی میں چینی اعلیٰ حکام کی موجودگی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے حالیہ امن مذاکرات خطے میں استحکام کی ایک اہم سنجیدہ کوشش ہیں امن کے حصول اور پاکستان کے اعتماد کی بحالی کیلئے افغان طالبان کو ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات شدید بداعتمادی اور سیکیورٹی خدشات کی زد میں ہیں چین جو نہ صرف ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ہے بلکہ خطے میں معاشی و سفارتی اثر و رسوخ رکھتا ہے، اس تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے ماضی میں بھی چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی مخلصانہ کوشش کی، تاہم افغان طالبان کی جانب سے کئی مواقع پر طے پانے والے نکات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا، جس سے اعتماد کا فقدان مزید گہرا ہوا ا±رمچی مذاکرات افغان طالبان کو پاکستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا ایک اور موقع فراہم کر رہے ہیں جہاں بیجنگ دونوں فریقین کو ایک میز پر لانے میں کامیاب ہوا ہے۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوارسینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ پاکستان جو خود دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے بارہا اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ افغان سرزمین کو ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند گروہوں کو استعمال نہ ہونے دیا جائے پاکستان میں افغانستان کی طرف سے ہونے والی دہشت گردی علاقائی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، جس کا تدارک افغان طالبان کی ذمہ داری ہے افغان طالبان پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف چین جیسے مخلص دوست کی ثالثی کو سنجیدگی سے لیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اپنے وعدوں کی پاسداری بھی کریں۔ ایک ذمہ دار اور خودمختار ریاست کے طور پر افغانستان کو پاکستان کے ساتھ پرامن تعلقات استوار کرنے ہوں گے۔ ا±رمچی مذاکرات اس امر کی آزمائش ہیں کہ آیا افغان طالبان ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اعتماد سازی کی جانب بڑھتے ہیں یا نہیں۔ اگر افغان طالبان سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں تو یہ مذاکرات نہ صرف پاک افغان تعلقات میں بہتری لا سکتے ہیں بلکہ پورے خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں۔

Leave a Reply