انڈونیشیا کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں آٹھ ہزار تک کی تعداد میں فوجی تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ گذشتہ سال کے آخر میں امریکی ثالثی میں جنگ بندی کا جو معاہدہ طے پایا تھا، اس کے بعد انڈونیشیا غزہ میں فوج بھجوانے والا پہلا ملک بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ترکی اور پاکستان جیسے دیگر مسلم ملک بھی اپنی فوجیں بھیجنے پر غور کر رہے ہیں لیکن انھوں نے واضح کیا ہے کہ وہ صرف امن و امان قائم رکھیں گے اور حماس کو غیر مسلح کرنے کی کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے۔
انڈونیشیا کی فوج کے سربراہ جنرل مارولی سیمانجنتک نے بتایا کہ فوجیوں کی تربیت پہلے ہی شروع کر دی گئی ہے اور وہ غزہ کی پٹی میں طب اور انجینیئرنگ کے شعبوں پر توجہ دیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ جس امن بورڈ کا اعلان کیا تھا، انڈونیشیا اس میں شامل ہے۔
اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی جانب سے امن بورڈ کو ایک بین الاقوامی استحکام فورس بنانے کا اختیار حاصل ہے۔ ایسی فورس جو غزہ کے سرحدی علاقوں کو محفوظ بنائے اور حماس کو غیر مسلح کرنے کے ساتھ ساتھ اس علاقے کو غیر فوجی بھی بنائے۔
یہ بورڈ غزہ میں ٹیکنوکریٹس پر مبنی نئی فلسطینی حکومت اور جنگ کے بعد تعمیر نو کی بھی نگرانی کرے گا۔ اس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو واشنگٹن میں ہونا ہے۔
ابھی تک یہ طے نہیں ہوا کہ انڈونیشیا کی فوجیں غزہ میں تعینات کب کی جائیں گی اور ان کا اصل کردار کیا ہو گا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے یہ فیصلہ ضرور کر لیا ہے کہ ان کے ملک کی فوج غزہ جائے گی۔
ٹرمپ کے امن بورڈ میں شامل ہونے کے فیصلے پر انڈونیشیا کی بعض اسلامی تنظیموں نے تنقید کی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بمباری میں امریکی کردار پر انڈونیشیا کی عوام میں غصہ پایا جاتا ہے۔