آج کھیلے جانے والے پاکستان اور امریکہ کے میچ میں جہاں پاکستان کی جانب سے 11 کھلاڑی اتریں گے، وہیں امریکی اسکواڈ میں تین ایسے کھلاڑی ہیں جو پیدا تو پاکستان میں ہوئے لیکن نمائندگی امریکہ کی کر رہے ہیں۔
انڈیا اور سری لنکا میں کھیلے جانے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں دنیا کی بڑی ٹیموں اور ایشیائی ٹیموں کے علاوہ امریکہ، متحدہ عرب امارات، ہالینڈ کی ٹیمیں بھی حصہ لے رہی ہیں۔
اس میگا ایونٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں یا پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کی تعداد گذشتہ ایونٹس کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہے۔ کم از کم آٹھ ٹیموں میں پاکستانی کھلاڑی یا ایسے کھلاڑی موجود ہیں جن کا بنیادی تعلق پاکستان سے ہے۔
پیر کے روز تو ایک میچ ایسا ہوا جس میں فیلڈ پر ایک ہی وقت میں آٹھ کھلاڑی ایسے موجود تھے جو یا تو پاکستان میں پیدا ہوئے تھے یا جن کے والدین کا تعلق پاکستان سے تھا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ دونوں ٹیموں میں سے ایک بھی پاکستان کی ٹیم نہیں تھی۔ زمبابوے کی جانب سے کپتان سکندر رضا فیلڈ پر تھے تو عمان کی ٹیم میں بھی سات پاکستانی یا پاکستانی نژاد کھلاڑی شامل تھے۔
ایسا نہیں کہ اس سے پہلے کسی ایک ملک کے کھلاڑیوں نے دوسرے ملک کی نمائندگی نہیں کی لیکن یہ خوش آئند بھی ہے اور تشویش ناک بھی۔
خوش آئند اس لیے کیوں کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ اتنا زیادہ ہے کہ ایک ٹیم میں سما نہیں پا رہا، جب کہ تشویش ناک اس لیے کیوں کہ ان کھلاڑیوں کے پاکستان چھوڑنے کے پیچھے مختلف وجوہات ہیں۔
امریکی کرکٹ ٹیم کے سکواڈ میں جو تین پاکستانی کھلاڑی شامل ہیں، اس میں سے ایک ہیں فاسٹ بالر علی خان جنھوں نے انڈین ان فارم بلے باز ابھیشک شرما کو گولڈن ڈک پر آؤٹ کیا،۔
دوسرے ہیں فاسٹ بالر محمد محسن، جنھوں نے چار اوورز میں صرف 16 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی، جبکہ تیسرے کھلاڑی شایان جہانگیربطور بلے باز موقع کے انتظار میں ہیں جو انھیں آج کے میچ میں مل سکتا ہے۔