پھلوں کی افادیت سے تو سب ہی واقف ہیں لیکن ان کے چھلکوں، گٹھلیوں اور پتوں میں بھی بیش بہا خزانے موجود ہیں۔ان میں ایک نعمت امرود بھی ہے جس کے پتے بھی ہمارے لیے صحت کے ضامن ہیں۔
بلند فشار خون کے شکار افراد عموماً ادویات کے ذریعے اپنے مرض کو قابو میں رکھتے ہیں، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ غذائیں بھی اس ضمن میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، جن میں امرود نمایاں ہے۔
اے آر وائی کیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوتے حکیم عبد الباسط نے بتایا کہ امرود غذائیت سے بھرپور پھل ہے جس میں وٹامن اے، وٹامن سی، فائبر، کیلشیم اور پوٹاشیم وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔
یہ اجزا نہ صرف قوتِ مدافعت کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ خون کی روانی کو متوازن رکھنے میں مدد دے کر بلڈ پریشر کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ امرود کے درخت کے پتے سے بننے والی چائے بھی ہمیں بے شمار طبی فائدے دیتی ہے جو کسی نعمت سے کم نہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق امرود خصوصاً دل کی صحت کے لیے مفید ہے۔ اس کے پتوں میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس مضر فری ریڈیکلز کے اثرات کم کرتے ہیں، جبکہ پتوں کا عرق بلڈ پریشر اور نقصان دہ کولیسٹرول کو گھٹا کر اچھے کولیسٹرول میں اضافہ کرنے میں مددگار پایا گیا ہے۔
ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ کھانے سے پہلے پکا امرود استعمال کرنے سے چند ہفتوں میں بلڈ پریشر میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
امرود میں موجود وٹامن سی، لائیکو پین، فائبر، پروٹین اور دیگر اجزاء ایسے اینٹی آکسائیڈنٹس کا کام کرتے ہیں جو جسم میں نقصان دہ اجزاء کی سطح کم کرتے ہیں، جس سے کینسر زدہ خلیات کی نشوونما نہیں ہوتی۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ امرود ہاضمہ بہتر بناتا ہے، جلد کی حفاظت کرتا ہے اور وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ کم کیلوریز کے باوجود یہ جلد پیٹ بھر دیتا ہے جس سے زیادہ کھانے کی عادت پر قابو پانا آسان ہو جاتا ہے۔
امرود ایک ذریعہ علاج بھی ہے جسے کھانے سے بہت سی بیماریوں سےچھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے جبکہ اس کے پتے بھی ہربل چائے کےلیے استعمال کیے جاتے ہیں اور ان پتوں کو نچوڑ کو سپلیمنٹ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ لہٰذا امرود کو محض ایک مزیدار پھل ہی نہیں بلکہ قدرت کا ایک مفید تحفہ بھی کہا جا سکتا ہے۔