وہ درد ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی نے میرے چہرے کی ایک جانب پوری قوت سے پیچ کس گھونپ دیا ہو۔ تکلیف اتنی شدید ہوتی تھی کہ 52 سالہ جروِن ٹملٹی نے کئی بار سوچا کہ شاید وہ زندہ نہ بچ پائیں۔
جرون بتاتے ہیں کہ اُن کے تین بچے اِس بات کے عادی ہو چکے تھے کہ اُن کے والد (جرون) کب کھانے کے دوران اچانک ڈائننگ ٹیبل سے اٹھ کھڑے ہوں، کیونکہ بعض أوقات ایک نوالہ بھی انھیں ناقابلِ برداشت اذیت میں مبتلا کر دیتا تھا۔
جرون اُس بیماری میں مبتلا تھے جسے برطانیہ کی تنظیم ’ٹریجمنل نیورالجیا ایسوسی ایشن‘ طب کی دنیا کی ’سب سے تکلیف دہ بیماری‘ قرار دیتی ہے۔
اس بیماری کا حملہ اُس وقت شدید تر ہوتا ہے جب چہرے پر موجود کوئی خون کی نالی کسی اعصاب (نروو) کو دبا دیتی ہے۔ اکثر اس بیماری کو دانت کے شدید درد کے طور پر غلط تشخیص کیا جاتا ہے۔ کبھی کبھار چہرے سے ٹکرانے والا محض ہوا کا تیز جھونکا بھی مریض کو اذیت ناک درد میں مبتلا کر سکتا ہے۔
نیشنل انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسیلینس (نائس) کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ میں سے آٹھ افراد اس مرض ’ٹریجمنل نیورالجیا‘ کا شکار ہوتے ہیں۔
اس مرض میں مبتلا ایک خاتون نے بتایا کہ اِس کی تشخیص بھی ایک مشکل مرحلہ ہے اور کیسے انھیں اپنی اس بیماری کی درست تشخیص کے لیے سات سال کا اذیت ناک انتظار کرنا پڑا۔
اُن کے مطابق اگرچہ وہ بار بار ڈاکٹروں کو بتاتی رہیں کہ کیسے اُن کے چہرے میں اس نوعیت کا درد ہوتا ہے جیسے چہرے پر بجلی دوڑ گئی ہو، تاہم ہر بار ڈاکٹروں نے انھیں بتایا کہ اُن کو کوئی بیماری لاحق نہیں ہے۔
جروِن اس بیماری کی کیفیت کچھ یوں بیان کرتے ہیں: ’جبڑے میں تیز درد ہوتا تھا، جیسے بجلی کے جھٹکے لگ رہے ہوں۔ ایسا لگتا تھا جیسے کوئی میرے چہرے کے ایک طرف پیچ کس گھونپ رہا ہو، یہ واقعی خوفناک ہوتا تھا۔‘

Leave a Reply