ہماری معاشرتی نفسیات میں دودھ کو طاقت، صحت اور زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مدر فیڈ کے بعد بچّے کا سب سے پہلا غذائی سہارا یہی دودھ ہوتا ہے، مگر یہی دودھ اب طاقت کے نام پر زہر کا گھونٹ بن چکا ہے۔
وہ فیڈر جسے ماں اعتماد کے ساتھ بچّے کے منہ سے لگاتی ہے کہ یہ اس کے لال کے لیے قوّت بخش ہوگا اور اسے صحت مند اور توانا بنائے گا، وہ نہیں جانتی کہ دراصل یہ دودھ نہیں بلکہ سفید رنگ کا ایسا مائع ہے جو دودھ کا روپ دھارے ہوئے ہے۔ سائنسی تحقیق اور لیبارٹری ٹیسٹ میں ثابت ہوا ہے کہ کیمیکل ملا یہ دودھ قوتِ مدافعت کم زور کرتا ہے اور بیماریوں کی بنیاد رکھتا ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ بچّوں کی جسمانی و ذہنی نشوونما کے مسائل اور دائمی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی ایک وجہ کیمیکل ملا دودھ بھی ہے۔
پاکستان میں ملاوٹ شدہ اور کیمیکل اجزا سے تیار کیا گیا دودھ اب انفرادی بد دیانتی نہیں رہا بلکہ یہ ایک منظم اور منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی ہوس میں قدرتی دودھ میں پانی اور پھر اس پانی کو دودھ ظاہر کرنے کے لیے ڈٹرجنٹ، یوریا، سوڈا ایش، نشاستہ اور دودھ پاؤڈر کے خطرناک اجزا شامل کیے جاتے ہیں۔ سفید رنگت، دودھ میں جھاگ اور گاڑھا پن آنکھوں کو دھوکا دینے کے لیے کافی سمجھے جاتے ہیں۔ اکثر دودھ کو دیر تک محفوظ رکھنے کے لیے اس میں ہائیڈروجن پر آکسائیڈ جیسے کیمیکلز بھی استعمال کیے جاتے ہیں جس کے بچّے کی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، یہ آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔
Physicochemical and adulteration study of fresh milk collected from different locations in Pakistan (2022) کے مطابق ایک جانچ کے دوران دودھ کے تقریباً تمام نمونوں میں کسی نہ کسی شکل میں یہ ملاوٹ پائی گئی۔ یہ وہ حقیقت ہے جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور ہی نہیں کرتی کہ ہم یا ہمارے بچّے روزانہ کیا پی رہے ہیں؟ کیونکہ ہم جانتے ہیں نہیں کہ ہم کیا پی رہے ہیں؟
اب دودھ سے بنی دیگر اشیا بھی اسی زہر کا تسلسل ہیں، جیسے دہی جمانے کے لیے خالص دودھ کے بجائے دودھ پاوڈر، بناسپتی گھی اور مختلف کیمیکلز استعمال کیے جاتے ہیں۔ Understanding the complexities of the prevalence and control of trans fat in the food supply in Pakistan (2021) کے مطابق بناسپتی گھی ٹرانس فیٹس کا ایک بڑا ذریعہ ہے، جو دل کے امراض، مٹاپے اور جگر کی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ یوں دہی، جسے ایک صحت بخش غذا سمجھا جاتا ہے، درحقیقت بیماریوں کا ایک خاموش ذریعہ بن جاتا ہے اور ہم اسے فریج میں بڑی بے فکری سے رکھ دیتے ہیں۔
دوسری طرف دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے گائے اور بھینسوں پر ظلم کی ایک الگ داستان رقم کی جا رہی ہے۔ زیادہ دودھ حاصل کرنے کے لیے آکسی ٹوسن اور دیگر ہارمونز کے انجیکشن لگائے جاتے ہیں، جو نہ صرف جانوروں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ انسانوں کے لیے بھی شدید خطرات کا باعث بنتے ہیں۔ Biotechnological perspectives on oxytocin use in dairy management (2024) کے مطابق ایسے دودھ کے مسلسل استعمال سے ہارمون میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے، بانجھ پن کے علاوہ لڑکیوں میں ماہواری کے مسائل، قبل از وقت بلوغت اور خواتین و بچّوں میں کئی پیچیدہ طبّی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آکسی ٹوسن والا دودھ استعمال کرنے والے بچّوں میں ہارمونل ڈس آرڈرز کا خطرہ تقریباً 30 فیصد زیادہ ہوتا ہے، جب کہ طویل عرصے تک استعمال سے تھائیرائیڈ، ہائی بلڈ پریشر اور بعض صورتوں میں کینسر کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ یہ نقصانات اس حد تک جا سکتے ہیں کہ بچّے پیدائشی طور پر کمزور ہوں۔ جعلی دودھ اور اس سے بنی اشیا کے نقصانات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ معدے کے امراض، جگر اور گردوں کی خرابی، دل کی بیماریاں حتیٰ کہ کینسر جیسے امراض بھی اسی سفید زہر سے جڑے ہوئے ہیں۔ بچوں میں ہڈیوں کی کمزوری، ذیابیطس، سست جسمانی نشوونما اور ذہنی کمزوری کے بڑھتے ہوئے کیسز ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ ہم اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھنے پر حیرانی کا اکثر اظہار کرتے ہیں، مگر اپنی روزمرہ خوراک میں شامل اس زہر کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ Physicochemical and adulteration study (2022) کے مطابق دودھ میں کی جانے والی یہ ملاوٹ گردوں، جگر، دل اور کینسر جیسے سنگین امراض کا سبب بن سکتی ہے۔
اگر ہم پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی کی بات کریں تو یہاں دودھ کی جانچ اور اس میں مضرِ صحت اجزا شامل کرنے کا علم ہونے پر ہزاروں جرمانے اور ایف آئی آر اور ای پی اوز اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر ریاستی ادارے چاہیں تو مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات کافی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ہر گلی، ہر محلّے اور ہر دیہات میں یومیہ بنیادوں پر چیکنگ ممکن نہیں۔ ملاوٹ مافیا منظم ہے، وسائل رکھتا ہے اور عوام کی بے حسی اور بے بسی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ سوال غور طلب ہے کہ اگر صارف خود محتاط نہ ہو تو کوئی ادارہ اکیلا یہ جنگ کیسے جیت سکتا ہے؟
پاکستانی عوام کو سب سے پہلے اس کا شعور حاصل کرنا ہوگا۔ سستا دودھ ہمیشہ مشکوک ہوتا ہے، ذرا سوچیں ایک گروی کے ساتھ ایک گروی کیسے مفت ہو سکتی ہے؟ ضرورت سے زیادہ سفید رنگت، ازحد جھاگ اور دیر تک دودھ کا خراب نہ ہونا ہی خطرے کی واضح علامت ہے۔ علاقہ کی معتبر دکانوں سے خریداری، رسید کا مطالبہ اور مشکوک دودھ کی فوری رپورٹنگ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے پنجاب کی طرح دوسرے صوبوں میں اگر ہیلپ لائن کو مؤثر طور پر استعمال کیا جائے، تو ملاوٹ کرنے والوں کو روکا جاسکتا ہے۔
پاکستان بھر میں فوڈ کنٹرول کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے کمیونٹی کی سطح پر نگرانی ناگزیر ہے۔ محلوں کی کمیٹیاں، تعلیمی ادارے اور مذہبی مراکز آگاہی مہم میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ موبائل ٹیسٹنگ لیبز کی تعداد بڑھائی جائے اور چھوٹے شہروں و دیہات پر خصوصی توجہ دی جائے۔ دکان داروں کے لیے لائسنسنگ، ٹریکنگ سسٹم اور مستقل بندش جیسے اقدامات کیے جائیں تاکہ ہر دکان جواب دہ ہو اور قانون کا خوف پیدا ہو۔ اگر ادارے اور عوام ایک صف میں کھڑے ہو جائیں تو وہ دن دور نہیں جب بچّے کے فیڈر میں واقعی دودھ ہوگا، موت نہیں۔