اتوار کا دن تھا جب خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں واقع ایک گھر کی فون کی گھنٹی بجی۔ فون اُٹھانے والے مفتی امشد علی کے والد تھے۔
بلوچستان کے ضلع نوشکی سے جو شخص فون پر بات کر رہا تھا اس نے امشد علی کے والد کو بتایا کہ: ’آپ کے علاقے کے ایک خطیب صاحب نوشکی میں تھے ان کو اہل خانہ سمیت مار دیا گیا ہے۔‘
مفتی امشد علی کے بھائی محمد ناصر بتاتے ہیں کہ ان کے والد صاحب نے جواب دیا: ’ہمارے علاقے کے تو ایک ہی خطیب ہیں جو نوشکی میں تعینات ہیں اور وہ میرا بیٹا ہے۔‘
محمد ناصر کہتے ہیں کہ اس کے بعد جب نوشکی میں رابطے کیے گئے تو معلوم ہوا کہ ہمارا بھائی، بھابھی اور تین معصوم بچے مسلح گروہ کے حملے میں جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
’اس حملے میں بھائی، بھابھی، تین سالہ معصوم انیقہ اور دو بیٹوں عمیر (16) اور طلحہ (14) کی جان چلی گئی، جبکہ ایک بیٹی زخمی ہوئی جو کہ ابھی کوئٹہ میں زیرِعلاج ہے۔‘