پاکستان اور افغانستان میں طالبان حکومت کے درمیان جھڑپوں کے بعد سرحدی علاقوں میں کافی تشویش پائی جاتی ہے دھماکوں اور فائرنگ کی آوازوں سے خوف طاری ہوجاتا ہے اوربچے رات کو سو نہیں پاتے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ”جب جھڑپیں شروع ہوئیں تو سب سے پہلے سرحد کے قریب ایک کلومیٹر کے اندر آباد گاو¿ں خالی کرا لئے گئے تھے“۔
واضح رہے کہ 26 فروری 2026 کو افغانستان کی طالبان حکومت نے فضائی حملوں کے جواب میں پاکستان کے سرحدی علاقوں پر حملے شروع کرنے کے بعد متعدد چوکیوں پر قبصہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بعد سے دونوں اطراف میں شدید جھڑپیں جاری ہیں اور طالبان کا کہنا ہے کہ پاکستانی فضائیہ نے ملک پر مزید حملے بھی کیے ہیں
پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان جھڑپوں کے دوران سرحدی علاقوں میں کیا صورتحال ہے؟

Leave a Reply