وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ تین سال سے بھرپور کوشش کی کہ افغانستان کے ساتھ اچھے ہمسایوں کی طرح زندگی بسر کریں،ہمیں افغانستان کے ساتھ کوئی غرض نہیں، ہمارے تعلقات قابل رشک نہیں رہے
انہوں نے کہا کہ افغانیوں کی 50 سال مہمان نوازی کی، ان سے کوئی امید نہیں،وہ اپنے گھر میں شادباد رہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو وتیرہ ان لوگوں نے پکڑ رکھا ہے، یہ نہ آج قابل قبول ہے، نہ پہلے تھا، نہ کل ہوگا۔ ہم نے بہت کوششیں کیں کہ بات چیت کے ذریعے معاملہ حل ہوجائے۔ افغانستان نے ہمیشہ دہشت گردی کی پشت پناہی کی، پاکستان میں جو کالعدم ٹی ٹی پی ہے یہ افغانستان کی فرنچائز ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ان کی پشت پر افغانستان نہ ہو تو یہ کب کے ختم ہوچکے ہوتے، اس صورتحال اور معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افغانیوں پر مزید اعتبار کرنا ٹھیک نہیں، کابل حکومت پر اعتبار کرنا بہت بڑا خطرہ ہے، افغانستان کے ساتھ بیک ڈور سفارتکاری کا مجھے علم نہیں، میرے خیال سے معنی خیز قسم کی کوشش نہیں ہو رہی۔

Leave a Reply