امریکی مرکزی کمان سینٹ کام کے مطابق امریکہ نے ایران کے خلاف حالیہ کارروائیوں میں نئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز استعمال کیے ہیں۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ ایرانی ڈرونز ’شاہد‘ سے ملتے جُلتے ہیں۔ اب تک سامنے آنے والی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینلز نصب ہو سکتے ہیں جن کی مدد سے یہ اپنے ہدف کا درست انداز میں تعین کرنے اور پھر انھیں موثر طریقے سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بہت سے مبصرین ان سستے ’لوکس‘ ڈرونز کو ایرانی شاہد 136 ڈرونز کی ’غیر لائسنس شدہ نقل‘ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انھیں گِر کر تباہ ہونے والے ایرانی ڈرونز کے مطالعے یعنی ’ریورس انجینئرنگ‘ کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔
کم از کم ان کی ساخت ملتی جلتی ہے، یعنی ان کی ایروڈائنامکس، انجن اور پیچھے کی جانب دھکیلنے والے پروپیلر۔
ان ڈرونز کی تصاویر، جو امریکی مرکزی کمان نے دسمبر میں شائع کی تھیں، میں ڈرونز کے ڈھانچے کے اوپری حصے میں ہلکے رنگ کے مستطیل نظر آتے ہیں جو سٹارلنک کمپنی کے سیٹلائٹ انٹرنیٹ ٹرمینلز جیسے ہیں

Leave a Reply