کالم : بابا الف
حکومت نے تہیہ کرلیا ہے کہ دوبرس کے کاموں کی بدولت عوام میں جو پذیرائی ملنا شروع ہوئی ہے اس کا بیڑہ غرق کرکے ہی دم لینا ہے۔ پنجاب حکومت کی کار کردگی کی وجہ سے اس کے کاغذ کے پھول بھی خوشبو دے رہے تھے لیکن پھر گیارہ ارب روپے کا جہاز خرید کر اپنے آپ پر تبرّا بھیجنے کا خود ہی اہتمام کرلیا گیا۔ اس پر بھی ٹھنڈ نہیں پڑی تو حکومتی اللّے تللّوں کے لیے اب ایک ارب 14کروڑ روپے سے 108 نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ جس میں سے 53 کروڑ روپے کی گاڑیاں وزیر اعلیٰ مریم نواز کی انسپکشن ٹیم کے لیے اور 30 کروڑ کی گاڑیاں کابینہ اور وزرائے کرام کے نظام ہضم کے لیے وقف ہوں گی۔ 27 کروڑ کی گاڑیاں وی آئی پیز کی سیکورٹی کو زوجیت میں لیں گی جب کہ دو بلٹ پروف گاڑیاں آفات ارضی وسماوی کی راہیں مسدود کریں گی۔ ان کے علاوہ کچھ لینڈ کروزر اور مہنگی گاڑیاں بھی حکومتی بے ہنگم کرّوفرکو گلیمرائز کریں گی۔ یہ اس ملک میں ہورہا ہے جو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور نہ جانے کس کس کے سودی قرضوں پر چل رہا ہے، جہاں عوام کو پینے کے لیے صاف پانی میسر نہیں، اسپتالوں میں دوائیں نہیں، اسکولوں میں بچوں کے بیٹھنے کے لیے کرسیاں نہیں مگر حکومتی فرعونوں کے قافلوں کی گاڑیوں کی خریداری کے لیے خزانوں کے منہ کھل جاتے ہیں۔
جس وقت پنجاب حکومت گاڑیوں کی خریداری کے لیے فہرستیں مرتب کررہی تھی، وفاقی حکومت عوام پر مہنگائی کے پہاڑ توڑنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کررہی تھی۔ دس نہیں بیس نہیں تیس نہیں اکٹھے 55 روپے فی لیٹر اضافے کا فیصلہ۔ اس سنگ دلی کو کیمو فلاج کرنے اور فریب دینے کے لیے عوام میں یہ تاثر پیدا کیا جارہا ہے کہ ایران امریکا اور اسرائیل جنگ کی وجہ سے یہ اضافہ ناگزیر تھا۔ یہ بہانہ چالاکی اور مکاری کے سوا کچھ نہیں۔ یہ اضافہ آئی ایم ایف کے مطالبے اور مسلسل بڑھتے ہوئے دباﺅ کے نتیجے میں کیا گیا ہے۔ حکومت کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آئی ایم ایف کے اس مطالبے کو کس طرح پورا کیا جائے۔ جنگ نے یہ موقع مہیا کردیا۔ یہ ہے حقیقت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی۔
ہمارے پیارے وزیراعظم نے دل پر پتھر رکھ کر عوام پر مہنگائی کا یہ بم چلایا ہے۔ وہ بڑے اضطراب اور دکھ کا اظہار کررہے ہیں، میٹنگ پر میٹنگ کررہے ہیں، وزراءاور اراکین کابینہ کو کفایت شعاری کے دروس دے رہے ہیں۔ اس پر کیا کہا جاسکتا ہے سوائے اس کے کہ بند کرو یہ ڈرامے بازی!! خطے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متاثر ہونے والے پاکستان واحد ملک نہیں ہے۔ بھارت، بنگلا دیش سب اس سے متاثر ہوئے ہیں لیکن کسی نے بھی اس بے رحمی سے بوجھ عوام کی طرف منتقل نہیں کیا۔
بھارت نے پٹرول کی کمی کا فیصلہ اس طرح کیا کہ پٹرول کی درآمد میں اضافہ کردیا۔ بنگلا دیش کی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر عوام کو سبسڈی دی۔ ہماری ماضی اور حال کی حکومتوں نے طے کررکھا ہے کہ سبسڈی شوگر مافیا اور اپنے پیاروں کے کارٹلز کے سوا کسی کو نہیں دینی۔ عوام کو سبسڈی دیتے وقت ان کو موت پڑتی ہے۔ نہ جانے کیسے کیسے بہانے کس مہارت سے گھڑ لیے جاتے ہیں۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے پہلے وزراءکرام اور دیگر چمچے ٹی وی اسکرینوں پر جگمگاتے ہوئے عوام کو تسلیاں دے رہے تھے کہ عوام پریشان نہ ہوں۔ حکومت کے پاس ایک مہینے کے پٹرول کے ریزرو ہیں اس لیے قیمتوں میں فوری اضافے کی ضرورت نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ پھر چند دن کے بعد ہی اضافے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟ اضافے کے لیے مہنگے پٹرول کی درآمد کا انتظار کیوں نہیں کیا گیا؟ اسی لیے نا کہ جنگ کی آڑ میں حکومت کو مہنگائی کا بہانہ مل گیا اور ستّر، اسّی، ارب روپے کی اضافی آمدنی بھی ہوگئی۔ پٹرول کے نئے ذخائر آئیں گے تو پھر اضافہ کردیا جائے گا۔ پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مہینے کے مہینے تبدیلی کی جاتی تھی، پھر یہ تبدیلی پندرہ دن کے بعد کی جانے لگی اب اعلان کیا گیا ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتے کے ہفتے تبدیلی کی جائے گی۔
حکومتی ظلم اور عوام کو کچلنے کی حکومتی پالیسی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ڈیڑھ ماہ سے بھی کم عرصے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 147 روپے 93 پیسے فی لیٹرکا اضافہ کیا جا چکا ہے۔ 31 جنوری 2026 سے صرف 35 دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چار مرتبہ اضافہ ہوا ہے۔ جس کا براہ راست بوجھ نچلے طبقے کے بجٹ پر پڑا ہے۔ شہباز حکومت کی ایک ہی پالیسی اشرافیہ کے لیے آسائشیں اور عوام کی جیبوں پر ڈاکے۔ عوام کا معاملہ ہو تو وسائل کی عدم دستیابی کا وہ رونا پیٹنا مچایا جاتا ہے کہ تھمنے میں نہیں آتا لیکن حکومت کی اپنی ذاتی آسائشوں کا معاملہ ہو تو اربوں روپے کی مراعات، وی آئی پی جہاز (ذیل میں جاری ہے)
اور نہ جانے کیا کیا کچھ فوری دستیاب ہو جاتا ہے۔ اس وقت وسائل کی عدم دستیابی مسئلہ نہیں رہتی۔
شہباز شریف بیورو کریٹس میں گھرے رہتے ہیں یا پھر غیر ملکی دوروں میں۔ اگر بیوروکریسی کو ہی ملک چلانا ہے تو پھر کیا ضرورت ہے الیکشن کروانے کی اور عوامی نمائندوں کی۔ عوام سے زندگی کا حق بھی چھینا جارہا ہے جب کہ وزیروں، مشیروں اور بیوروکریٹس کی مراعات اور سرکاری عیاشیوں میں معمولی کمی کرنے کی بھی کسی میں ہمت نہیں۔ پچھلے ایک سال میں شہباز شریف چالیس غیر ملکی دورے کرچکے ہیں۔ ان کے پاس کون سا منجن ہے جسے بیچنے وہ ملک ملک گھوم رہے ہیں۔ ان کے بے تحاشا دوروں سے ملک میں کتنا سرمایہ آیا؟ کتنی سرمایہ کاری ہوئی؟ کتنے انوسٹرز نے پاکستان کا ر±خ کیا؟ جہازوں کو ٹیکسی بناکر رکھ دیا ہے لیکن حاصل؟
خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں سب سے زیادہ ہیں۔ دیگر ممالک میں کسی بھی آفت کا مقابلہ حکمت عملی اور تدبر سے کیا جاتا ہے۔ ایران امریکا جنگ شروع ہوئی تو نریندر مودی فوراً ٹرمپ کے پاس پہنچ گئے کہ ہمیں ایک مہینے تک روس سے تیل خریدنے کی اجازت دی جائے۔ ہمارے یہاں ہر آفت کا مقابلہ کرنے کا ایک ہی فارمولا ہے پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ۔ اس اضافے کے نتیجے میں عوام بھاڑ میں جاتے ہیں تو جائیں۔
شہباز حکومت کو اپنی مستیوں میں اندازہ ہی نہیں ہے کہ عوام میں ان کے خلاف کتنا غم وغصہ پیدا ہو چکا ہے؟ کوئی بھی چھوٹا موٹا حادثہ جب اس غصے کے پھٹنے کا باعث بنے گا، انہیں پتا چل جائے گا؟ تب ملک سے بھاگنے کے لیے انہیں اپنے خریدے ہوئے یہ لگڑری جیٹ بھی دستیاب نہیں ہوں گے۔ جن ملکوں میں وہ ہر ہفتے دوروں پر نکل جاتے ہیں ان میں سے کوئی بھی انہیں پناہ نہیں دے گا۔ سابقہ حکومتوں کو بھی عوام کی پروا نہیں تھی لیکن اس حکومت نے تو انتہا کردی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ عمران خان کو موقع دیے بغیر حکومت خود اپنے ہاتھوں اپنی وفات کی تیاری کررہی ہے۔
وفات کی تیاری
adminshuja
اگلی خبر →
سندھ میں تعلیم کی تباہی، ذمے دار کون….

Leave a Reply