کالم :وجیہ احمد صدیقی
آج کے دور میں جب علاقائی تنازعات کی وجہ سے تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، پنجاب حکومت نے ایک اہم قدم ا±ٹھایا ہے۔ 10 مارچ سے 31 مارچ تک اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ تاکہ ایندھن کی بچت کی جا سکے۔ اس کے ساتھ سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم کا حکم دیا گیا ہے اور سرکاری سطح پر ایندھن کے استعمال میں بھی کمی کی جائے گی۔ حکومتی دعوے کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کے ذخائر 25 سے 28 دن تک کے ہیں، جبکہ خام تیل کے ذخائر صرف 10 دن کے بچے ہیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہے اور ہرمز کے سمندری راستے میں خلل پڑ گیا ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے قوم سے اتحاد اور صبر کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے، ان کو یہ بھی کہنا چاہیے تھا کہ حکومت نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ جبکہ دوسری جانب مانیٹرنگ کمیٹیاں بھی بنائی گئی ہیں تاکہ سپلائی کی نگرانی کی جائے اور قیمتوں میں اضافہ روکا جائے۔ یہ کمیٹیاں خود کتنا پٹرول خرچ کریں گی اس کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ دیگر صوبوں میں بھی ملتی جلتی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔ یہ اعلان سطحی طور پر تو درست لگتا ہے، لیکن جب ہم گہرائی میں جھانکتے ہیں تو ایک سوال کھڑا ہوتا ہے: کیا واقعی اسکول بند کرنے سے پٹرول کی بچت ہو جائے گی؟ پنجاب کا تعلیمی نظام لاکھوں بچوں پر مشتمل ہے۔ لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان اور دیگر شہروں میں روزانہ لاکھوں گاڑیاں، رکشے، وینز اور بسوں کی آمد ورفت ہوتی ہے جو بچوں کو اسکول پہنچاتی ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ بندش ایندھن کی بچت کا باعث بنے گی، لیکن کیا یہ بچت واقعی قابل ذکر ہو گی؟ ایک تخمینہ کے مطابق پنجاب میں تقریباً 50 لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات ہیں جو پرائیویٹ اور سرکاری اداروں میں پڑھتے ہیں۔ ان کی نقل و حرکت سے روزانہ ہزاروں لیٹر پٹرول اور ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔ اگر اسے روکا جائے تو یقینا کچھ بچت ہوگی، لیکن یہ بچت کل سپلائی کا کتنا فی صد ہو گی؟ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں پٹرول کی کھپت کا بڑا حصہ ٹرانسپورٹ سے ہے، جس میں بسوں، کاروں اور موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔ تعلیمی اداروں کی بندش سے شاید 5 سے 10 فی صد کی بچت ممکن ہو، لیکن یہ کوئی انقلابی قدم نہیں۔ اصل مسئلہ تو سرکاری سطح پر ہو رہی لوٹ مار ہے۔ سرکاری افسران اور سیاستدانوں کی پروٹوکول گاڑیاں، جن کی تعداد ہزاروں میں ہے، روزانہ دھواں ا±ڑاتی پھرتی ہیں۔ ایک سادہ سرکاری افسر کی گاڑی میں 4 سے 5 سیکورٹی اہلکار، ایک ڈرائیور اور خود افسر بیٹھے ہوتے ہیں، جو خالی سفر بھی کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ، وزرائ اور ایم این ایز کی قافلے تو الگ کہانی ہیں۔ لاہور میں نواز شریف ہاو?س سے سرکاری عمارت تک کا سفر کئی گاڑیوں کے قافلوں میں ہوتا ہے، جو قومی خزانے کا سرمایہ جلاتا ہے۔ عوام سے وصول کیے گئے ٹیکسوں کو پٹرول کی شکل میں اس طرح مفت جلایا جاتا ہے۔
سرکاری اخراجات میں مفت پٹرول کی صورت ایک الگ کھیل ہے۔ ہر سرکاری ملازم، خاص طور پر سینئر افسران، کو مہینے میں ایک مخصوص کوٹا ملتا ہے جو وہ اپنی مرضی سے استعمال کرتے ہیں۔ یہ کوٹا اکثر بیچ دیا جاتا ہے یا ذاتی استعمال میں لگایا جاتا ہے۔ پنجاب میں ہزاروں سرکاری گاڑیاں ایسی ہیں جو پارک کی گئیں ہیں مگر ان کا پٹرول الاﺅنس چلتا رہتا
ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، صرف پنجاب حکومت کے محکموں میں سالانہ اربوں روپے کا ایندھن ضائع ہوتا ہے۔ اگر یہ مفت پٹرول بند کر دیا جائے، پروٹوکول کی گاڑیاں کم کر دی جائیں اور فضول کی سیکورٹی ختم کر دی جائے تو جو بچت ہو گی، وہ اسکول بند کرنے سے کئی گنا زیادہ ہو گی۔ مثال کے طور پر، لاہور ڈیویڑن میں 500 سے زائد سرکاری گاڑیاں ہیں جن کا استعمال صرف پروٹوکول کے لیے ہوتا ہے۔ انہیں کم کرنے سے روزانہ ہزاروں لیٹر بچت ہو سکتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اسکول بند کرنے سے بچوں کو کیا نقصان ہو رہا ہے؟ تعلیم ہی قوم کی بنیاد ہے۔ تین ہفتوں کی بندش کا مطلب ہے نصاب کا تاخیر سے مکمل ہونا، امتحانات کا شیڈول بگڑنا اور خاص طور پر غریب بچوں کا سبق بھول جانا۔ دیہی علاقوں میں جہاں بچے صرف اسکول ہی جاتے ہیں تفریح کے لیے، وہاں گھر بیٹھے رہیں گے تو ان کی صحت اور ذہنی ترقی متاثر ہو گی۔ لڑکیوں کی تعلیم تو پہلے ہی خطرے میں ہے، یہ بندش انہیں گھروں میں قید کر دے گی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ آن لائن کلاسز ہوں گی، مگر کیا دیہی پنجاب میں ہر بچے کے پاس اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ ہے؟
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں صرف 40 فی صد آبادی کے پاس مناسب انٹرنیٹ تک رسائی ہے۔ غریب بچے تو آن لائن کلاسز دیکھ بھی نہیں سکیں گے۔ یہ بندش امیروں کے بچوں کے لیے کوئی مسئلہ نہیں، مگر غریبوں کے لیے تعلیم کا خاتمہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر پروٹوکول ثقافت ختم کرے۔ ایک بل بنایا جائے جس میں اعلیٰ افسران کی گاڑیاں ایک سے زیادہ نہ ہوں، سیکورٹی کو کم کیا جائے اور مفت پٹرول کا خاتمہ ہو۔ سابق وزرائے اعظم نے بھی پروٹوکول کم کرنے کی کوشش کی تھی، جس سے لاکھوں بچت ہونے کے بجائے مزید نقصان ہوا تھا۔ آج کل کی صورتحال میں یہ ضروری ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش عارضی ہو سکتی ہے، مگر تعلیم کا نقصان دائمی ہے۔ نواز شریف کی اپیل اتحاد کی ہے، تو اتحاد کیسے ہو گا جب غریب بچے اسکول سے محروم ہوں اور امیر افسران پروٹوکول میں مصروف ہیں؟ انہیں پٹرول کی بچت کی فکر نہیں ہے۔
سرکاری سطح پر لوٹ مار روکنے کے لیے ٹرانسپیرنسی لازمی ہے۔ مانیٹرنگ کمیٹیاں بنائی گئی ہیں، مگر ان میں بھی سرکاری افسران شامل ہیں جو خود بے دریغ پٹرول استعمال کرتے ہیں۔ ایک آزاد کمیشن بنایا جائے جو ہر گاڑی کی نگرانی کرے۔ پٹرول پمپس پر راشن بندی کی جائے اور بلیک مارکیٹنگ کو روکا جائے۔ بجائے اسکول بند کرنے کے، سرکاری ٹرانسپورٹ کو بہتر بنایا جائے، کارپولنگ کو فروغ دیا جائے اور ایندھن کی بچت کے لیے عوامی آگاہی مہم چلائی جائے۔ پنجاب کی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ اسکول بند ہونے سے ٹیچرز، بس ڈرائیورز اور دکانداروں کا روزگار چھن جائے گا۔ والدین کو گھر پر بچوں کی دیکھ بھال کے لیے چھٹی لینی پڑے گی، جو پیداوار کم کرے گی۔ یہ بحران قومی سطح کا ہے، تو حل بھی قومی ہونا چاہیے۔ وفاق کو چاہیے کہ اسٹاک بڑھائے اور متبادل ذرائع تلاش کرے۔ آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اسکول بند کر کے پٹرول کی بچت کا دعویٰ ایک بہانہ ہے۔ اصل بچت سرکاری فضول خرچیوں کو کاٹنے سے ہو گی۔ پروٹوکول ختم کرو، مفت پٹرول بند کرو، گاڑیاں کم کرو تو تین ہفتوں میں نہ صرف بحران گزر جائے گا بلکہ خزانے میں اضافہ بھی ہو گا۔ بچوں کی تعلیم کا سودا نہ کرو، ورنہ قوم کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ حکومت کو فوری عمل کرنا چاہیے، ورنہ عوام کا غصہ طوفان کی صورت پھٹ پڑے گا۔

Leave a Reply