کوئٹہ،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت بلوچستان ریونیواتھارٹی اپنے اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے تاکہ مقامی وسائل کے حصول کو مضبوط بنایا جا سکے اور مالیاتی نظم و نسق کو بہتر کیا جا سکے۔اس سلسلے میں ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس عبداللہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں اتھارٹی اور محکمہ خزانہ کے سینئر ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس میں بلوچستان میں ٹیکس گیپ کے جامع جائزے اور محصولات کی استعداد (ریونیو پوٹینشل) کی نقشہ سازی پر غور کیا گیا۔ یہ طے پایا کہ اس مقصد کے لیے محکمہ خزانہ ایشیین ڈولپمنٹ بینک(اے ڈی بی) سے تکنیکی معاونت حاصل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے گا۔ اس مطالعے میں ریونیو کے بنیادی عوامل کی نشاندہی کی جائے گی، جن میں مجموعی معاشی سرگرمی، شرح نمو کے رجحانات، اور خدمات کے شعبے میں موجود غیر استعمال شدہ صلاحیت شامل ہیں۔خصوصی توجہ سنٹرل پروڈکٹ کلاسیفکیشن (CPC) فریم ورک کے تحت نئے قابلِ ٹیکس شعبوں کی نشاندہی اور موجودہ نیگیٹو لسٹ نظام کے جائزے پر دی جائے گی تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جا سکے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے باضابطہ شعبے پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس بیس کو وسعت دی جائے۔ اس تناظر میں غیر رسمی معیشت کو ایک اہم چیلنج قرار دیا گیا، جس کے لیے ہدفی ادارہ جاتی اصلاحات، بہتر دستاویزی نظام اور منظم نقشہ سازی کی ضرورت ہے۔یہ اقدام حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ شفافیت کو فروغ دیا جائے، ٹیکس نظام میں انصاف کو یقینی بنایا جائے، اور صوبے کے لیے ایک پائیدار ریونیو نظام قائم کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے تحت بلوچستان ریونیواتھارٹی اپنے اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے

Leave a Reply