کوئٹہ۔بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل زہری میں سیکورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے خودکش بمبار خاتون کو گرفتار کرلیا ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفرازبگٹی نے کہا ہے کہ صوبے کے عوام دہشتگردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کو معلومات فراہم کر رہے ہیں جو کہ خوش آئند ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نہ ہم تھک رہے ہیں اور نہ ہی پریشان ہیں، بی ایل اے اور بشیر زیب نے خواتین کو خودکش بمبار بنا کر بلوچستان کی روایات کو تار تار کردیا ہے۔
گزشتہ ایک سال کے دوران 1ہزار دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا، افغانستان اس وقت 27دہشتگردتنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے جس سے عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہیں، ریاست نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک نے آئین و قانون کے مطابق چلنا ہے ،ڈی ریڈیکلائزیشن سینٹرز کے قیام سے مسنگ پرسنز کا مسئلہ حل ہورہا ہے، سی ٹی ڈی کے لیے 10ارب کی منظور ی دے دی ہے۔
بدھ کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کوئٹہ میں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر، خودکش بمبار خاتون لائبہ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ و قبائلی امور بلوچستان محمد حمزہ شفقات ،وزیراعلیٰ کے معاون برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے ضلع خضدار کی تحصیل زہری میں ایک کاروائی کے دوران لائبہ نامی خاتون کو گرفتار کیا ہے جسے خودکش حملے کے لیے تیار کیا گیا تھا اس کاروائی سے سیکورٹی فورسز نے کئی معصوم جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا ہے ۔
یہ وہ گول ہیں جو ہماری فورسز روکتی ہیں لیکن ان کی پذیرائی نہیں ہوتی میں سیکورٹی فورسز کو اس کارروائی پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ اس کاروائی کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ یہ آپریشن مکمل طور پر انسانی معلومات کی بناءپر کیا گیا اب بلوچستان کے عوام ایک طویل عرصے کے بعد ایک بار پھر سے سیکورٹی فورسز سے تعاون کرتے ہوئے انہیں دہشتگردوں او ر ان کے سہولت کاروں سے متعلق معلومات فراہم کر رہے ہیں جو کہ ایک مثبت پیش رفت ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ روز اول سے کہہ رہا ہوں کہ اسلام ، بلوچ و پشتون معاشرے اور دنیا بھر میں خواتین کا ایک مقام ہے لیکن بی ایل اور بشیر زیب خواتین کو خود کش بمبار بنا کر انکا استحصال کر رہے ہیں بلوچستان اور پاکستان میں کہیں بھی خواتین کی چیکنگ نہیں کی جاتی مگر اب دہشتگرد تنظیموں کی وجہ سے خواتین کی چیکنگ بھی کی جائےگی دہشتگرد تنظیمیں ہمارے معاشرے کو انتہائی پستی کی طرف لیکر جارہی ہیں۔
میرسرفرازبگٹی نے کہا کہ ہم ایک ذمہ دار ریاست ہیں بلوچستان حکومت نے گرفتار ہونے والی خواتین کو کسی بھی طور پر ہراساں نہ کرنے ، صرف خواتین اہلکاروں کو ان تک تفتیش سمیت دیگر امور کے لیے رسائی دینے سمیت ان کی عزت اور احترام کر برقرار رکھنے کے لیے واضح حکمت عملی اور تدابیر اپنائی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دہشتگرد تنظیمیں بلوچ قوم اور معاشرے کو ایک لاحاصل جنگ کی طرف دھکیل رہی ہیں اس میں کشت و خون ،بچوں ،معصوم شہریوں کی جانوں کے ضیاع کے علاوہ کچھ نہیں ہے معاشرے کو سوچنا ہوگا اور اب بلوچ قوم یہ سوچ رہی ہے کہ انہیں اس جنگ میں صرف استعمال کیاجارہا ہے اور اسکا کوئی منطقی انجام نہیں ہوگا۔
خودکش بمبار خاتون کو ڈی ریڈیکلائزیشن سینٹر میں رکھا جائےگا جہاں اس سے مزید تفتیش ہوگی اور خاتون نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ ہر قسم کا تعاون کریگی انہوں نے کہا کہ گرفتار خاتون پر کسی قسم کا کوئی دباﺅ نہیں ہے اور نہ ہی اسے کسی قسم کی ہدایات دی گئی ہیں ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ گرفتار خاتون لائبہ کی ایک شخص سے شادی ہوئی تھی جس کے بعد اس کے ایک کزن جو کہ خود بھی بی ایل اے کا سرگرم رکن ہے نے اسے خودکش بمبار بننے کی ترغیب دی دہشتگرد انٹرنیٹ کا منفی استعمال کر کے بچوں اور نوجوانوں کو دہشتگردی کی جانب راغب کر رہے ہیں ۔
میرسرفرازبگٹی نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ڈاکٹر صبیحہ سے بھی اس لڑکی کی ملاقات کروائی جانی تھی ہم روز اول سے کہہ رہے ہیں کہ بی وائی سی نہ تو رجسٹرڈ ہے ساتھ ہی وہ بی ایل اے کی پراکسی بن کر ان کی منظم آواز ہیں اور شہروں میں ان کے لیے پروپگنڈا کر تے ہیں ۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سی ٹی ڈی کے لیے آج 10ارب روپے کی منظور ی دے دی ہے ، 40ارب روپے کی لاگت سے بلوچستان میں بی ایریا اور اے ایریا میں ضم کیا جارہا ہے ،دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اگر 100ارب روپے بھی دینا پڑے تو ہم خرچ کریں گے ۔

Leave a Reply