ایران پرمسلط کردہ جنگ خطے میں کس حد تک پھیل سکتی ہے، جنگ کتنی طویل ہوگی، نتیجہ کیا ہوگا، کیا ایران میں رجیم چینج ہوگا، اگر مذاکرات ہوئے تو شرائط کیا ہوں گی، پاکستان کا کردار کیا ہوگا، ایران کیسے یقینی بنائے گا کہ پاکستان میں توانائی بحران نہ ہو؟
ایسے ہی کچھ اہم سوالات کا جواب جاننے کیلیے میں نے کراچی میں ایران کے قونصل جنرل اکبر عیسیٰ زادے کا تفصیلی انٹرویو کیا۔ سفارتی زبان کو اپنے الفاظ دے کر مفہوم بدلنے سے بچانے کیلیے یہاں یہ انٹرویو لفظ بہ لفظ پیش کیاجارہا ہے۔
سوال:ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے اردو میں بیان جاری کرکے پاکستان حکومت سے اظہار تشکر کیا ہے، کیا وجوہات ہیں کہ ایران ایک طرف خلیجی ممالک میں اہداف پر حملہ کررہا ہےجبکہ پاکستان کا مشکور ہے؟
اکبرعیسیٰ زادے: وزیر خارجہ عراقچی نے پاکستانی عوام اورحکومت کے نام جو پیغام دیا ہے اس میں سب سے پہلے ماہ رمضان کا تذکرہ ہے کہ مسلمان اس ماہ کو ماہ حرام کہتے ہیں مگر امریکا اور اسرائیل نے اس ماہ ایران پر حملہ کرکے اس مقدس مہینے کی حرمت کو نقصان پہنچایا ہے۔
ڈاکٹر عباس عراقچی نے یہ بھی کہا ہےکہ ہم دل کی اتھاہ گہرائیوں سے پاکستان کی ملت اور حکومت کا شکریہ ادا کرتےہیں کہ پاکستان نےان حالات میں اظہار یک جہتی کیا جب دنیا کے تمام ممالک خاموش تھے۔
ڈاکٹر عراقچی یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم اپنی سرزمین، خودمختاری اور قومی سلامتی کا پوری بصیرت کےساتھ دفاع کرنے کیلیے تیار ہیں۔
یہ دفاع کاحق عالمی چارٹرکےمطابق ہے، اسی حق کو استعمال کرتےہوئے دشمن کےسامنے اپنا دفاع کررہے ہیں، دشمن ملک کے جتنے بھی فوجی اثاثے بھی ہیں، فوجی اڈے ہیں، انٹیلی جنس مراکز ہیں یا لاجسٹک مراکز ہیں،ہم ان پر حملہ اپنے دفاع کا حصہ تصور کرتے ہیں اور ہم انہی کو اپنا نشانہ قرار دے رہے ہیں۔یہ مراکز ان ممالک کا حصہ شمار نہیں ہورہے بلکہ درحقیقت یہ امریکا کا علاقہ ہیں، جسے ہم نشانہ بنارہےہیں۔
اگر ان ممالک میں موجود کسی غیر فوجی اثاثے پر حملہ ہورہا ہے تو وہ بھی اس لیے کہ اسے ہمارے خلاف حملے کیلیے استعمال کیا جارہا ہے۔مثال کے طور پر اگر کسی جگہ فوجیوں کو ٹہرایا جارہا ہے جیسے کہ ہوٹل میں تو وہ بھی ہمارا ہدف بنے گا،اسی طرح اگر کہیں انٹیلی جنس میٹنگ جاری ہے تو وہ بھی ہمارا ہدف ہوگا۔ اسی طرح اگر دشمن ہمارے کسی بنک پر حملہ کرتا ہے تو ہم خطے میں موجود وہ بنک جس میں امریکا شئیر ہولڈر ہے، اسے اپنا ہدف قرار دینے میں حق بجانب ہیں۔

Leave a Reply