امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ ایران نے امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں پورے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر بمباری کی جس کے باعث بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کو خطے بھر میں ہوٹلوں اور دفتری عمارتوں میں منتقل ہونا پڑا۔
اخبار کے مطابق اس صورتحال کے بعد زمینی فوج کا بڑا حصہ عملی طور پر ریموٹ انداز میں جنگ لڑ رہا ہے جبکہ صرف لڑاکا طیاروں کے پائلٹس اور طیاروں کی دیکھ بھال کرنے والا عملہ فوجی اڈوں پر موجود ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بھی ان بکھرے ہوئے امریکی فوجیوں کی تلاش کے لیے عوام سے ان کے نئے مقامات کی اطلاع دینے کی اپیل کی ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق فوجیوں کو عارضی جگہوں پر منتقل کرنے سے ٹرمپ انتظامیہ کی جنگی تیاریوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
خطے میں امریکی فوج کے زیر استعمال 13 فوجی اڈوں میں سے اکثر اب قابلِ رہائش نہیں رہے جبکہ ایران کے ہمسایہ ملک کویت میں واقع اڈوں کو شاید سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ کویت کے پورٹ شویبہ پر ایرانی حملے میں امریکی فوج کے ایک ٹیکٹیکل آپریشنز سینٹر کو تباہ کیا گیا تھا جس میں 6 امریکی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
قطر میں ایران نے العدید ائیر بیس جو امریکی سینٹرل کمانڈ کا علاقائی فضائی ہیڈکوارٹر ہے، کو نشانہ بنایا جس سے ارلی وارننگ ریڈار سسٹم متاثر ہوا۔ بحرین میں ایک ایرانی ڈرون نے امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر میں مواصلاتی آلات کو نشانہ بنایا۔ سعودی عرب کے پرنس سلطان ائیر بیس پر بھی ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے مواصلاتی نظام اور کئی ری فیولنگ ٹینکرز کو نقصان پہنچایا۔
ایرانی ڈرونز اور میزائلوں نے کویت میں علی السالم ائیر بیس کو بھی نشانہ بنایا جہاں طیاروں کو نقصان پہنچا اور کئی اہلکار زخمی ہوئے جبکہ کیمپ بیورنگ میں مرمت اور ایندھن کی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلیجنس ونگ نے خطے کے عوام کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’ہم امریکیوں کی شناخت کرنے اور انہیں نشانہ بنانے پر مجبور ہیں، لہٰذا بہتر ہے کہ انہیں ہوٹلوں میں پناہ نہ دی جائے اور ان کے مقامات سے دور رہا جائے‘۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق 2 سابق امریکی عہدیداروں، جنہیں فوجی آپریشنز پر بریفنگ دی گئی تھی، نے بتایا کہ سعودی عرب کے پرنس سلطان ائیر بیس میں کمانڈ سینٹرز پر مضبوط چھتیں موجود نہیں تھیں اور وہاں ایک حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔
فوجی حکام کے مطابق امریکی ری فیولنگ ٹینکرز کو بھی کو جلدبازی میں اس جنگ میں بھیجا گیا اور انہیں خطے میں تعیناتی یا مشق کا مناسب وقت نہیں ملا۔ رواں ماہ دو امریکی KC-135 ری فیولنگ طیارے آپس میں ٹکرا گئے تھے جس کے نتیجے میں 6 اہلکار ہلاک ہوئے

Leave a Reply