گوادر کے ساحلوں پر کچھووں کی اموات میں اضافہ، سمندری ماحولیاتی نظام خطرے میں ،چربندن سے ایک اور مردہ کچھوا برآمد، رواں ماہ دوسرا واقعہ؛ ماہرین کی تشویش میں اضافہ۔تفصیلات کے مطابق گوادر کے ساحلی قصبہ چربندن میں ایک اور سمندری کچھوا مردہ حالت میں پایا گیا ہے، جو رواں ماہ کے دوران ملنے والا دوسرا کچھوا ہے۔ مسلسل پیش آنے والے ایسے واقعات نے سمندری ماحولیاتی نظام کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق ضلع گوادر کے مختلف ساحلی علاقوں میں کچھووں کی مردہ حالت میں برآمدگی کے واقعات میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو ماہرین کے نزدیک ماحولیاتی آلودگی، غیر قانونی ماہی گیری اور سمندری حیات کے لیے خطرناک عوامل کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔ ماہرِ آبی حیات ظریف بلوچ کے مطابق مکران کے ساحلی علاقوں میں کچھوو¿ں کی ہلاکت کی ممکنہ وجوہات میں آبی آلودگی، غیر پائیدار ماہی گیری اور انسانی مداخلت شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ماضی قریب میں مکران کے ساحلی علاقے کچھوو¿ں کی افزائشِ نسل کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے تھے، تاہم گزشتہ چند برسوں سے ان علاقوں میں کچھووں کے خول کا تواتر سے ملنا ایک تشویشناک امر ہے۔انہوں نے IUCN اور WWF سے اپیل کی کہ مکران کے ساحلی علاقوں میں کچھوو¿ں کی اموات کی وجوہات جاننے کے لیے جامع تحقیق کی جائے۔کیونکہ بلوچستان کے ساحلی علاقے، جن میں تاک بیچ اورماڑہ، دران بیچ جیوانی اور اسٹولہ جزیرہ پسنی شامل ہیں، سبز کچھووں کی افزائشِ نسل کے اہم مسکن ہیں۔

Leave a Reply