کالم:عالیہ زاہد بھٹی
زندگی کے سفر میں ا±تار چڑھاﺅ آتے ہیں، عروج و زوال سے سابقہ پڑتا ہے ہر عروج کا سفر چڑھتے ہوئے سورج کا سا تجربہ دے جاتا ہے جو ہم سورج کے ساتھ کرتے ہیں کہ اس کے آنے پر سارے کام زندگی کے سارے ہنر اسی کے دھرتی پر چھا جانے کے بعد سر انجام دیتے ہیں اسی طرح ہر ا±تار اور زوال سے دوچار ہونے کے بعد اندازہ ہو جاتا ہے کہ بس اب دنیا آپ سے منہ موڑ کر اپنی اپنی زندگی میں سکون کے ساتھ خراٹے لے کر سو رہی ہے اور آپ چونکہ اس وقت ا±تار یا زوال کا شکار ہیں تو اس دنیا کے سرہانے ٹک ٹک دِیدَم دَم نَہ کَشِیدَم کی صورت بیٹھے ہیں۔ انہی سب احساسات کا نام زندگی ہے کہیں محبت کہیں نفرت کہیں عروج کہیں زوال کہیں نرم کہیں سخت کہیں گرم کہیں سرد مگر ان سب کے بیچ میں وہ ایک خاص کیفیت جو اپنی زندگی میں کسی مشکل کو آسان ہوتے دیکھ کر دل میں گھر کر جاتی ہے آسانی دینے والے کے لیے کیا جذبات اور احساسات ہوتے ہیں بعض اوقات اس کا اظہار بھی ممکن نہیں ہوتا لیکن ان آسانیوں کو پیدا کرنے والے جانے ہوں یا انجانے اپنے ہوں یا پرائے ان کے لیے تشکر کے الفاظ نہ بھی ملیں تب بھی رگ و ریشے سے جو دعائیں نکلتی ہیں جو کیفیات پیدا ہوتی ہیں انہیں خالق کائنات کے علاوہ کوئی بھی پیمائش نہیں کر سکتا اور جو احساسات الفاظ کے قالب میں نہ ڈھل سکیں وہ احساسات حقیقت میں وہ ہیرے ہوتے ہیں جنہیں اصل جوہری جو ربّ کائنات ہے جس نے انسان کو تراشا اس کائنات کو تخلیق کیا وہ جب ان احساسات کے ہیروں کو اپنے انداز میں تراش کر فائدہ مند ثابت ہونے والے افراد کے درمیان اجر کے طور پر منتقل کرتا ہے شاید اسی کو اجر عظیم کہا جاتا ہو خالق کائنات کے محبوب سرور کائنات محمد مصطفی احمد مجتبیٰ سرکارِ دو عالم کی حدیث مبارکہ کے مطابق ”راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا بھی صدقہ ہے“۔ صرف یہی نہیں جو اگر یہ بھی نہ کر سکے تو مسکرا تو سکتا ہے رسول اللہ کی یہ حدیث مبارکہ ہے کہ: ”تمہارا اپنے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرانا تمہارے لیے صدقہ ہے“۔ کبھی سوچا ہے یہ تکلیف دہ چیز کا ہٹادینا، یہ مسکرا دینا ہے کیا؟ یہ وہ کیفیت ہے جسے روزے دار کے افطار کے وقت ٹھنڈے پانی کے ایک گھونٹ کے اندر جاتے ہی وہ کیفیت ہے جسے مسنون دعا میں بیان کیا گیا ہے کہ: پیاس ختم ہو گئی، رگیں تر ہو گئیں، اور اگر اللہ نے چاہا تو ثواب مل گیا“۔
ہو سکتا ہے آپ کا دیا ہوا مسکراہٹ کا ایک لمحہ، توجہ کی ایک ساعت کھانے کا ایک لقمہ کسی بھی نعمت یا دولت کا ذرا سا اشتراک آپ کے لیے کوئی معنی نہ رکھتا ہو لیکن جسے آپ ان سے نواز رہے ہیں اس کے لیے وہ سمندر ہو جو اس کی سوکھے حلق کی تراوٹ اور خشک زندگی کی نمی ہو اس کی مشکلات کا حل ہو اس کی چھوٹی سی آسودگی ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی عبادات کا قرار وسکون اور یکسوئی ہو جو آپ کی دی ہوئی توجہ، مسکراہٹ، نعمت، دولت یا چند لقموں کے باعث اسے حاصل ہوئی۔ سوچیں ربّ العالمین کے حضور اس کے اجر وثواب کا کیا معاملہ ہوگا؟؟ ہمیں اپنے اردگرد ایسے بہت سے افراد ملتے ہیں جو اپنی مقدور بھر مسکراہٹ، آسانیاں، دولت، لقمے، فراوانیاں اور نجانے کیا کیا ہم پر وار دیتے ہیں اور ہم بدلے میں اس دعا کے سوا کہ اللہ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے کچھ کہہ بھی نہیں پاتے۔
جی چاہتا ہے کہ ہر اس فرد کا الگ الگ شکریہ ادا کریں جس نے ہمیں تب مسکرا کر دیکھا جب ہم غمگین تھے ہمیں خوشحالی میں دیکھ کر بھی ہمیں کھانا کھلایا جب ہمیں اس کھانے کی شدید طلب تھی جو خوشحالی کے باوجود کسی وقتی رکاوٹ کے باعث فوری طور پر میسر نہ تھا ہمیں رونے کے لیے اپنا کندھا فراہم کیا جب ہم بظاہر مضبوط نظر آرہے تھے ہمارے لیے اپنے مال و دولت سے اس وقت آسانی فراہم کی جب ہر طرف سے ہم انتہائی متمول دکھائی دے رہے تھے لیکن ہمیں ضرورت تھی۔ کبھی کبھی سوچ آتی تھی کہ یہ تالیف قلب کی خاطر مال وقت (جاری ہے)
روپیہ پیسہ دھن دولت اشیائ خورو نوش دینا کیا ہے اس سے کیسے خوشی ملتی ہوگی جو ہمارے سامنے خوش، آسودہ، خوشحال صحت مند فارغ البال ہیں انہیں کیسے خوشی مل سکتی ہے وہ بھی اتنی زیادہ کہ ان کو دینے سے ہماری تقدیر بدل جائے ہمارے لیے مزید آسانی اور فراوانی مل جائے سب سے بڑھ کر ربّ کی رضا اور سکینت مل جائے؟؟ مگر جب ہم اپنے پیاروں کی تالیف قلب کے لیے خالص اللہ کی رضا کے راستوں کے راہی بنتے ہیں۔
مسکراہٹ، آسانی، محبت، فراوانی، دولت ِ دنیا یا دولت ِ ایمانی، وقت، پیسہ یہ سب کچھ دیتے ہیں یا ہمیں دیے جاتے ہیں تب یہ باتیں سمجھ میں آتی ہیں کہ یہ تالیف قلب کیا ہے، دل راضی ہوتے ہیں، صاحب دل زبان سے دعائیں کرنا بھول بھی جائیں تب بھی دل خود ہی دھڑک دھڑک کر اپنے خوش کرنے والوں کی جان و مال عزت و آبرو والدین و اولاد کے لیے دعائیں کرتا چلا جاتا ہے کیونکہ یہ دل اللہ ہی کے ہاتھ میں ہوتا ہے جسے ربّ العالمین الٹ پلٹ کر دھڑکنے کے لیے چھوڑ دیا کرتا ہے اور ربّ العالمین ہی کی مٹھی میں دھڑکتا ہوا دل کسی نے خوش کردیا اس کی دھڑکنیں اپنے خالق کی ہتھیلی پر مچل مچل کر ان کے لیے کیا کیا ناں مانگ لیں گی؟ اس تصور نے اک عجیب وجد سا طاری کردیا جس کے بعد سوچا کہ اللہ جی ہم پر جتنے افراد نے اپنی مسکراہٹیں، وقت، مال ودولت، نعمتیں، کھانوں کے لقمے، آسانیاں، فراوانیاں اور جو کچھ ان کے پاس میسر تھا ہم پر جب جب وارا ان تمام افراد کی جان و مال عزت و آبرو والدین و اولاد سمیت ان کے تمام مرحومین اور زندہ رہ جانے والے پیاروں کو اپنے غیب کے خزانوں سے اجر عظیم عطا فرما اور ہمیں بھی یہ قوت عطا فرما کہ ہم بھی انہی کی طرح تیرے بندوں پر اسی طرح یہ سب کچھ نچھاور کرتے ہوئے تیرے مقرب اور پسندیدہ ترین بندوں میں شامل ہو جائیں۔ آمین یارب العالمین

Leave a Reply