کالم :میاں منیر احمد
عالمی سطح ایک بدلا ہوا منظر دکھائی دے رہا ہے، اسے ایک نئی صف بندی بھی کہہ سکتے ہیں۔ تبدیلی کا یہ سورج طلوع ہوچکا ہے، صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ میں، خصوصاً آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ناٹو سے مدد مانگی تاہم انہیں یہ تعاون نہیں ملا، بلکہ یوں کہہ لیجیے کہ ان کا مطالبہ نظرانداز کردیا گیا۔ یہی ایک نئی صف بندی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے نقطہ نظر کو اکثر افراتفری یا بے ترتیب قرار دیا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک گہری تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جو اب آگے بڑھے گی ختم نہیں ہوگی۔ امریکی اتحادیوں کا ایک نیا عالمی نظریہ وجود میں آرہا ہے، صدر ٹرمپ تو پاپولزم اور قوم پرستی کے نظریے میں گھرے ہوئے ہیں، ان کی یہ حکمت عملی یا لائحہ عمل ان کے نئے دوست اور نئے حریف بھی پیدا کر رہا ہے، مستقبل میں ہم بہت سے معاملات میں امریکا اور یورپ کو ایک دوسرے سے الگ الگ مفادات کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ ناٹو کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کے ساتھ نہ چلنا ایک ایسی تبدیلی ہے جس کا پہلا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اب امریکا ناٹو کی کمانڈ سے الگ کردیا جائے گا۔ یا وہ خود اس سے الگ ہونے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے، امریکی خود بھی چاہتے ہیں کہ اتحادیوں کی نئی صف بندی کی جائے اور اتحادی اداروں کی تشکیل نو بھی کی جائے نئی صف بندی میں واشنگٹن اور یورپ ماضی کے تعلقات توڑ کر اپنے لیے کسی نئے راستے کی تلاش میں ہیں۔
کئی دہائیوں تک امریکی خارجہ پالیسی ایک سادہ بنیاد پر قائم رہی: اتحاد، سب سے بڑھ کر، ناٹو، امریکی طاقت اور اثر و رسوخ کی بنیاد تھے۔ یہ اتفاق رائے تقریباً 80 سال سے قائم ہے مگر آج یہ ٹوٹ رہا ہے، صدرٹرمپ اس اتحاد پر محض شک ہی نہیں کرتے بلکہ وہ کھل کر اس کی اہمیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔ یورپی اتحادیوں کی جانب سے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائی کی حمایت سے انکار پر ان کا ردعمل بتا رہا ہے کہ وہ اب کچھ نیا چاہتے ہیں، اسی لیے وہ ناٹو کو ”کاغذی شیر“ قرار دے رہے ہیں، اتحادیوں پر بزدلی کا الزام لگا رہے ہیں، اب امریکا کے نئے اتحادی کون ہوسکتے ہیں؟ کیا دنیا کے ممالک انفرادی طور پر امریکیوں کے اتحادی بنیں گے؟ یا کسی ایک تنظیم میں شامل ہو کر اس کے نئے اتحادی بنیں گے؟ ٹرمپ تو دوٹوک پیغام دے رہے ہیں کہ جو ان کے مفادات کے ساتھ نہیں، وہ قابل اعتبار نہیں، تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ امریکا ناٹو سے نکل جائے گا، بس ایک نئی لائن یہ ہوگی کہ اگر اتحادی واشنگٹن کی کال پر لبیک نہیں کہتے تو اتحادیوں کی حیثیت سے ان پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ ناٹو کے انکار سے اس کا بھرم بھی ٹوٹ رہا ہے، امریکا خاموشی سے اپنے اتحادیوںکے روایتی ڈھانچے کی نئی صف بندی کرے گا، یورپ بھی یہی چاہتا ہے کہ ناٹو کے کمانڈ سسٹم میں امریکی کردار کو کم کیا جائے۔ برطانیہ اس سوچ کو آگے بڑھا رہا ہے، برطانیہ جانتا ہے کہ بر صغیر، ایشاءاور افریقا جہاں جہاں ماضی میں تاج برطانیہ کی حکومت رہی، ان اقوام کو ڈیل کرنے کے لیے امریکا برطانیہ کا محتاج رہے گا، اب وہ ان ممالک سے متعلق اس کا ساتھ دینے کی پوری پوری قیمت وصول کرے گا، یورپ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے خطے سے امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی لائی جائے، یہ عمل شروع ہوچکا ہے فی الحال قدرے سست روی کا شکار ہے، مگر یہ شروع ہوچکا ہے بہت جلد ناٹو کا آپریشنل کنٹرول امریکا کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور ناٹو کے مربوط کمان کے ڈھانچے میں اصلاحات بھی جلد مکمل کرلی جائیں گی۔
مستقبل میں امکان بڑھ رہا ہے کہ اتحاد کی تینوں آپریشنل کمانڈز کی قیادت یورپی ممالک کریں گے یہ ناٹو کو یورپی قیادت والی تنظیم میں تبدیل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، اگر امریکا کمانڈ میں اپنے مرکزی کردارسے دستبردار ہو جاتا ہے تو یہ ایک بالکل ہی نیا منظر ہوگا ناٹو شکل میں برقرار تو رہے گا لیکن اس کا مادہ بدل جائے گا۔ واشنگٹن اب اس اتحاد کی قیادت نہیں کرے گا جس طرح پہلے کرتا تھا، یہ تبدیلی ٹرمپ کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکی رائے عامہ کے دباﺅ کی وجہ سے ہونے جارہی ہے۔ اس نئی صف بندی میں مسلم دنیا اور اسلامی تحریکیں کیا کریں؟ یا انہیں کیا کرنا چاہیے کہ مسلم مفادات کا بہترین تحفظ ہوسکے؟ مسلم مفادات کا تحفظ کیا ہے؟ پہلی ترجیح اپنی دینی شناخت برقرار رکھنا، معاشی مفادات کا تحفظ، اور مضبوط دفاع، یہ تینوں شعبے کس قدر مضبوط اور مستحکم ہیں، اس بارے میں سوچنا مسلم قیادت کی ذمے داری ہے، مشرق وسطیٰ کا تبدیل ہوتا ہوا جغرافیہ بہت کچھ سوچنے کا تقاضا کررہا ہے، مسلم دنیا کو تنہائی سے باہر نکلنا ہوگا ایران پر حالیہ حملے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ واشنگٹن جب چاہے طاقت استعمال کرنے پر آمادہ ہے اور اپنے معاشی اہداف حاصل کرنے کے لیے وہ اخلاقی ذمے داریوں کا پابند نہیں رہنا چاہتا۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ مسلم دنیا اور مسلم تحاریک کا موقف واضح نہیں ہے کہ وہ آنے والے چیلنجز کے لیے تیار ہیں یا نہیں، جماعت اسلامی کی قیادت کو چاہیے کہ وہ مرکزی سطح پر کوئی ایک مضبوط، مستحکم تحقیقی ڈیسک قائم کرے جو مسلم دنیا کو ایک نئی پالیسی ترتیب دینے میں راہنمائی فراہم کرے۔

Leave a Reply