بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی اور حق دو تحریک کے رکن مولانا ہدایت الرحمن کے درمیان شدید بحث، اسپیکر نے مولانا ہدایت الرحمن کو ایک دن کے لیے معطل بعدازاں وزیراعلیٰ کی تجویز اور ایوان کی رائے پر دوبارہ رکنیت بحال کردی گئی ۔ جمعرات کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران رکن اسمبلی مولاناہدایت الرحمن اور نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی میر رحمت بلوچ نے نقطہ اعتراض پر بولنے کی کوشش کی اس دوران دونوں اراکین کے ساتھ دیگر اراکین کے بولنے سے ایوان مچھلی بازار بن گیا بولنے کی اجازت نہ ملنے پر رحمت صالح بلوچ نے ایوان سے واک آوٹ کیا۔
اس موقع پر رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن اور اسپیکر نے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ اسپیکر نے مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ اگر میں اسمبلی قانون کے مطابق چلاوں گا تو آپ کو مشکل ہوجائے گی جس پر مولاناہدایت الرحمن نے کہا ہے کہ آپ رولنگ کا ڈرامہ بند کریں ۔اسپیکر نے جواب دیا کہا میں ہاوس کا کسڈوڈین ہوں یہ اگر مجھے یہ کہہ رہے ہیں تو یہ ایوان کی توہین ہے ،صوبائی وزیر میر ظہوربلیدی نے کہا کہ اسپیکر اراکین اسمبلی کے لئے ایک سیشن کرائیں جس میں اراکین اسمبلی کو بولنے کے آداب سکھائے جائیں۔
اس موقع پر اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن(ر) عبدالخالق اچکزئی نے مولانا ہدایت الرحمان کو جمعرات کے سیشن کے لیے معطل کرتے ہوئے سارجنٹ ایٹ آرمز کو مولانا ہدایت الرحمن کو ایوان سے نکالنے کی ہدایت کردی جس کے بعد مولاناہدایت الرحمن ایوان سے چلے گئے ۔اس موقع پر وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اسپیکر سے درخواست کی کہ مولاناہدایت الرحمن کو واپس بلایا جائے۔ اسپیکر نے ایوان سے رائے طلب کی کہ آیا مولانا ہدایت الرحمن کو اجلاس میں آنے دیا جائے جس پر ایوان نے مولاناہدایت الرحمن کو واپس بلانے کی رائے دے دی۔ وزیراعلی نے اسپیکر سے مولاناہدایت الرحمن کے روئیے پر معذرت بھی کی ۔بعدازاں مولانا ہدایت الرحمن ایوان میں واپس آگئے ۔

Leave a Reply