Daily Shujaat Quetta
April 17, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
50 سال بعد انسانوں کی چاند کے قریب واپسی، ناسا کا آرٹیمس 2 راکٹ تاریخی مشن پر روانہگوگل کروم میں صارفین کیلئے ایک بہترین فیچر اسکلز متعارفسب میرین کیبل کی مرمت، 20 اپریل تک انٹرنیٹ سروس متاثر ہونیکا امکانیوٹیوب میں صارفین کے لیے ایک بہت دلچسپ تبدیلی کر دی گئیحکومت کا مصنوعی ذہانت میں ایک ارب ڈالر سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہٹیسٹ ٹیم کا دورہ بنگلا دیش، عمر گل کو بولنگ اور اسد شفیق کو بیٹنگ کوچ کی ذمہ داریاں ملنے کا امکانتونسہ میں 334 افراد میں ایڈز کی تشخیص، 12 سال سے کم عمر 331 بچے شامل، وزیر صحت پنجاب کی تصدیقوزیراعظم اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ اہم دورے پر سعودی عرب پہنچ گئےپاک بحریہ کا مقامی ساختہ اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہایران کے ساتھ ڈیل ہوگئی تو اسلام آباد جاسکتا ہوں: امریکی صدر ٹرمپ50 سال بعد انسانوں کی چاند کے قریب واپسی، ناسا کا آرٹیمس 2 راکٹ تاریخی مشن پر روانہگوگل کروم میں صارفین کیلئے ایک بہترین فیچر اسکلز متعارفسب میرین کیبل کی مرمت، 20 اپریل تک انٹرنیٹ سروس متاثر ہونیکا امکانیوٹیوب میں صارفین کے لیے ایک بہت دلچسپ تبدیلی کر دی گئیحکومت کا مصنوعی ذہانت میں ایک ارب ڈالر سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہٹیسٹ ٹیم کا دورہ بنگلا دیش، عمر گل کو بولنگ اور اسد شفیق کو بیٹنگ کوچ کی ذمہ داریاں ملنے کا امکانتونسہ میں 334 افراد میں ایڈز کی تشخیص، 12 سال سے کم عمر 331 بچے شامل، وزیر صحت پنجاب کی تصدیقوزیراعظم اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ اہم دورے پر سعودی عرب پہنچ گئےپاک بحریہ کا مقامی ساختہ اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہایران کے ساتھ ڈیل ہوگئی تو اسلام آباد جاسکتا ہوں: امریکی صدر ٹرمپ

لبنان میں مسلح کارروائیوں کا خاتمہ نہایت ضروری ہے، وہاں جنگ بندی مذاکراتی عمل کا حصہ ہے: پاکستان

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہےکہ لبنان جنگ بندی مذاکرات کے عمل کا حصہ ہے اور اسے اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے لہٰذا لبنان میں مسلح کارروائیوں کا خاتمہ اور امن نہایت ضروری ہے۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان نے کہاکہ  ایران امریکا مذاکرات میں فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل کا تسلسل برقرار رہا جس میں کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہوا جب کہ مذاکرات میں تعطل بھی پیدا نہیں ہوا،“نہ بریک تھرو نہ بریک ڈاؤن” کی صورتحال رہی،  دو وفود کے درمیان 21 گھنٹےطویل مذاکرات ہوئے جو نہایت سنجیدہ اور جامع تھے اور اگرمجموعی وقت شمار کیا جائے تومذاکراتی عمل 24گھنٹوں سے بھی زیادہ جاری رہا۔

ترجمان نے کہا کہ مذاکرات میں شریک فریقین کی سنجیدگی، عزم اور مثبت رویے کو سراہا جانا چاہیے کیونکہ 21گھنٹے مسلسل مذاکرات کرنا اور پیچیدہ امور پر غور کرناغیرمعمولی عزم کی مثال ہے۔

طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ ہم سفارتی رابطوں کی تفصیلات پر تبصرہ نہیں کریں گے کیونکہ متعلقہ فریقین کے درمیان اعتماد اور رازداری کو برقرار رکھنا ضروری ہے، ہمارے پاس دونوں فریقین کی کوئی معلومات تھی تو وہ امانت تھی کیونکہ اگر ہم وہ معلومات شیئر کرتے تو وہ امانت میں خیانت ہوتی۔

ترجمان دفترخارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان امن عمل میں ثالث اور سہولت کاری کا کردار جاری رکھے گا لہٰذا مذاکرات سمیت تمام سفارتی کوششیں ایک تسلسل کا حصہ ہیں، تہران میں اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں اور وفود کے دورے اسی عمل کا حصہ ہیں، پاکستان، تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا۔

ترجمان نے کہا کہ امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں اسی تسلسل میں پاکستان اپنے اتحادیوں اور دوست ممالک کو مسلسل اعتماد میں لے رہا ہے، امن عمل کی حمایت کرنے والے تمام ممالک کا خیرمقدم کرتے ہیں، بین الاقوامی شراکت داروں سے مسلسل رابطے اور مشاورت جاری ہے، روس سمیت عالمی طاقتوں کی حمایت کو اہمیت دیتے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ لبنان جنگ بندی مذاکرات کے عمل کا حصہ ہے اور اسے اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، گزشتہ 2 دن میں اسرائیل-لبنان محاذ پر بہتری کے آثار حوصلہ افزا ہیں، لبنان میں مسلح کارروائیوں کا خاتمہ اور امن نہایت ضروری ہے کیونکہ جنگ بندی سے خطے میں استحکام آئے گا اور بات چیت کیلیے سازگار ماحول پیدا ہوگا۔

ترجمان کے مطابق لبنان میں کشیدگی میں کمی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے جب کہ جوہری معاملہ بھی زیربحث آنے والے اہم موضوعات میں شامل ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *