چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر خطے میں امن کے قیام کے لیے فعال اور متوازن سفارتکاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران کا دورہ اور وزیر اعظم شہباز شریف کے سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے حالیہ دورے دراصل امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سنجیدہ کوششوں کا حصہ ہیں۔ ان اعلیٰ سطحی روابط نے پاکستان کو ایک ایسے ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر پیش کیا ہے جو نہ صرف مسلم دنیا بلکہ عالمی سطح پر بھی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔
ایران کے ساتھ عسکری و تزویراتی سطح پر بات چیت اور خلیجی ممالک کے ساتھ سیاسی و اقتصادی مشاورت نے پاکستان کو ایک پل کا کردار دیا ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوارسینیٹرمحمد عبدالقادر نے مزید کہا ہے کہ سعودی عرب, ترکی اور قطر جیسے اہم ممالک کے ساتھ ہم آہنگی اور قریبی تعلقات نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان ایک وسیع تر سفارتی اتحاد کے ذریعے خطے میں پائیدار امن کیلئے کوشاں ہے۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ کامیاب ہوتا ہے تو اسکا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا۔
اس پیشرفت کے نتیجے میں پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، پاکستان-ایران گیس پائپ لائن منصوبہ بھی عملی شکل اختیار کر سکتا ہے جو توانائی بحران کے حل میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ پاکستان کا افغانستان اور بھارت پر دباو¿ بڑھے گا. پاکستان کی یہ سفارتی کامیابیاں نہ صرف خطے میں امن کی نئی راہیں کھول سکتی ہیں بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک مو¿ثر اور ذمہ دار ریاست کے طور پر بھی مضبوط بنائیں گی۔ پاکستان اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی اقتصادی اور تزویراتی پوزیشن کو مزید مستحکم کر سکتا ہے۔

Leave a Reply