Daily Shujaat Quetta
June 25, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
ایران جنگ میں اللہ نے پاکستان سے کام لیا، دنیا ہمیں پیس میکر کے نام سے جانتی ہے: اسحاق ڈارملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کا انعقادنیتن یاہو کی مشکلات میں مزید اضافہ، ٹرمپ امریکا ایران ڈیل کو اسرائیلی مؤقف پر ترجیح دینے لگےامریکا کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کیساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنایران جنگ میں اللہ نے پاکستان سے کام لیا، دنیا ہمیں پیس میکر کے نام سے جانتی ہے: اسحاق ڈارملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کا انعقادنیتن یاہو کی مشکلات میں مزید اضافہ، ٹرمپ امریکا ایران ڈیل کو اسرائیلی مؤقف پر ترجیح دینے لگےامریکا کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کیساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکن

تھیا کی قربانی کی پہیلی: وہ سیارہ جسے زمین کھا گئی اور جس کے ٹکڑوں سے چاند بنا

اگلی بار جب آپ پورے چاند سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ’تھیا‘ کے بارے میں سوچنے کے لیے ایک لمحہ ضرور نکالیں۔

یہ نام سائنسدانوں نے ایک فرضی سیارے کو دیا ہے جو شاید 4.5 بلین سال پہلے نئی بننے والی زمین سے ٹکرایا تھا اور اسی ٹکراو کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ایک بڑا ٹکڑا بعد میں ہمارا چاند بن گیا۔

اس نظریے کے مطابق، تھییا کی ’کائناتی قربانی‘ کے بغیر یہ قدرتی سیٹلائٹ نہیں ہوتا اور آپ شاید یہ مضمون بھی نہ پڑھ رہے ہوتے۔

چند سائنسدانوں کا خیال ہے کہ زمین اور مریخ کے حجم جتنے ایک سیارت کے درمیان ایک بڑے تصادم نے اتنا مواد پیدا کیا کہ وہ آہستہ آہستہ اکٹھا ہو کر چاند بنا۔

اس واقعے نے، جسے ’جائنٹ امپیکٹ ہائپوتھیسس‘ کہا جاتا ہے، ایک ایسے رشتے کی بنیاد ڈالی جس کی زندگی کے لیے اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔

دوسری چیزوں کے علاوہ، چاند زمین پر کشش ثقل کی وجہ بھی ہے، جس نے زمین کو اربوں سال سے اپنے محور پر مستحکم رکھا ہوا ہے اور اسی وجہ سے ہمیں ایک مستحکم آب و ہوا میسر ہے۔

جرمنی میں میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار سولر سسٹم ریسرچ کے سائنسدان پروفیسر تھورسٹن کلین بتاتے ہیں کہ آب و ہوا میں استحکام کے بغیر، ہمارے پاس بہت زیادہ شدید موسمی حالات ہوتے، جو زندگی کی نشوونما کے لیے سازگار نہیں ہوتے۔

کلین سائنسدانوں کی ایک ایسی بین الاقوامی ٹیم کا حصہ تھے جس نے گزشتہ نومبر میں زمین کے ساتھ اس اہم لیکن پراسرار تصادم پر مزید روشنی ڈالنے کی کوشش کی۔

شیئر کریں: WhatsApp

awais

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *