Daily Shujaat Quetta
June 26, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
ایران جنگ میں اللہ نے پاکستان سے کام لیا، دنیا ہمیں پیس میکر کے نام سے جانتی ہے: اسحاق ڈارملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کا انعقادنیتن یاہو کی مشکلات میں مزید اضافہ، ٹرمپ امریکا ایران ڈیل کو اسرائیلی مؤقف پر ترجیح دینے لگےامریکا کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کیساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنایران جنگ میں اللہ نے پاکستان سے کام لیا، دنیا ہمیں پیس میکر کے نام سے جانتی ہے: اسحاق ڈارملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کا انعقادنیتن یاہو کی مشکلات میں مزید اضافہ، ٹرمپ امریکا ایران ڈیل کو اسرائیلی مؤقف پر ترجیح دینے لگےامریکا کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کیساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکن

ایران پر مسلط امریکی جنگ کے دوران پاک بحریہ کا وطن کیلئے غیر معمولی کردار

امریکا اسرائیل جنگ کے دوران پاک بحریہ آپریشن محافظ البحر کے ذریعے ملکی توانائی ضروریات کی محفوظ منتقلی یقینی بنا کر پاکستان کی لائف لائن کے لیے ڈھال بن کر ابھری ہے۔

آبنائے ہرمز میں جہاں جارح ممالک کے جہاز تقریباً تین ہفتے سے پھنسے ہیں وہیں پاک بحریہ اور برادر اسلامی دوست ملک ایران کے حکام کے درمیان باہمی رابطوں اور سفارتکاری کی مدد سے پاکستان کے لیے تمام ترجہاز بحفاظت اپنی منزل پر پہنچ رہے ہیں۔

چونکہ پائپ لائنز کے ذریعے پاکستان کو مختلف ممالک سے توانائی کی براہ راست فراہمی نہیں کی جاتی اور یہ عمل سمندری راستوں ہی سے انجام پاتا ہے، اس لیے پاکستان کے لیے ہمیشہ سے لفظ توانائی سمندر اور بحریہ ہی سے جڑا رہا ہے۔

پچھلے برس ہوئی پاک بھارت جنگ میں بھی پاک نیوی کی ہیبت نے دشمن کے بحری جہازوں اور آبدوزوں کو آگے بڑھنے سے روکے رکھا تھا۔ اس طرح معرکہ حق میں پاک فوج اور پاک فضائیہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر پاکستان نیوی نے یقینی بنایا تھا کہ دشمن سمندری راستوں سے پاکستان کا بال بھی بیکا نہ کرسکے۔

تاہم امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط جنگ کے دور میں نیوی کی کوششوں سے روز روشن کی طرح عیاں ہوگیا ہے کہ بحریہ نے کس طرح پاکستان کی توانائی اور دیگربنیادی ضروریات کی سپلائی کا عمل مسلسل طور پر محفوظ بنایا ہوا ہے اور اس طرح ملکی معیشت کو کاری ضرب سے تاحال بچا رکھا ہے۔

حالیہ جنگ میں یہ بھی واضح ہوا ہےکہ میری ٹائم سکیورٹی حالت جنگ میں کیا جانیوالا اقدام ہی نہیں بلکہ یہ حالت امن میں بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے جوکہ قومی بقا کے تسلسل کی ضمانت ہوتی ہے ۔

یہ بھی کہ سمندر میں سکیورٹی زمین پر سکیورٹی سے کتنی جڑی ہوئی ہے اور پاکستان بحریہ نہ صرف سمندری سرحدوں کی محافظ ہے بلکہ عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو تحفظ دینے میں خاموش مگر کس قدر کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

پاک بحریہ کا یہی وہ کردار ہے جس کے لیے اہلکار ہمیشہ مستعد ہوتے ہیں مگر اس کا عملی مظاہرہ آج دیکھا جارہا ہے کہ نہ صرف خام تیل اور گیس لانے والے جہاز محفوظ ہیں بلکہ اس صورتحال میں دشمن بھی کوئی فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا ہے۔

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی کمی یا قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ معیشت پر کاری ضرب لگاسکتا ہے تاہم خطے میں پیدا صورتحال نے اجاگر کیا ہے کہ سمندری راستے پاکستان کی لائف لائن ہیں اور ملک کو معاشی استحکام بخشے ہوئے ہیں۔

یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ میری ٹائم آگاہی ہمیشہ ہی کسی ملک کی ضرورت ہوتی ہے تاہم امریکا اسرائیل ایران جنگ کےدوران پاک نیوی کی بدولت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو بے جا پرنہیں لگ سکے اور عوام کو پیٹرولیم مصنوعات بنگلادیش سمیت کئی ملکوں کے مقابلے میں نسبتا کہیں کم قیمتوں پر حاصل ہیں

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *