بابا الف
غالب حیات ہوتے تو جنگ بندی اور اسلام آباد میں مذاکرات کی حقیقت کو اپنے ایک ہی شعر میں یوںبیان کردیتے:
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جاناکہ خوشی سے مرنہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
چاچو نے ناخنوں سے پہاڑ تراش کر براستہ اسلام آباد امن کا جو راستہ تراشا ہے اس پر آفرین تو بنتی ہے۔ صدر ٹرمپ جیسی اندھی کھوپڑی کے لیے نوبل انعام تجویز کرنے کے سفارتی حربے سے وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرمپ کو قابو کرنے کی راہ پر پہلا قدم رکھا تھا۔ ورنہ ہم نے کون ساخود نوبل انعام دینا تھا یا کون سا ہمارے مشورے سے دیا جانا تھا۔ راہ ورسم وفاداری بڑھا کر ڈارون کے بندر نما انسان کو زبردستی امن کی چھت پر چڑھانا تھا جس میں وزیراعظم شہباز، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اسحاق ڈار کامیاب رہے ورنہ اسرائیلی لابی کے ہتھے چڑھے اس پاگل سے کچھ بھی بعید نہیں تھا۔
اس جنگ بندی نے پاکستان کو ڈپلومیسی کے ایک شاہکار کے طور پر پیش کیا ہے۔ ایک ملک جو دیوالیہ ہونے کے قریب بھی ہے اور دنیا کے لیے ناگزیر بھی۔ ایک ہاتھ سے دردر قرضے مانگ رہا ہے اور دوسرے ہا تھ سے دنیا کو بچارہا ہے۔ جس کی کرنسی گر رہی ہے مگر عالمی وقار بڑھ رہا ہے۔ جس کا بجٹ خسارے میں ہے مگر جغرافیائی سیاسی حیثیت عروج پر ہے۔ جو ایران کے ساتھ بھی کھڑا ہے اور ایران کے سعودی عرب پر حملے کی مذمت بھی کررہا ہے۔ جو ایک طرف آبنائے ہرمز کھلوا رہا ہے اور دوسری طرف دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچا رہا ہے۔ ایران اور اس کے عوام بھی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں صدر ٹرمپ بھی اپنے ٹوئٹس کا آغاز شہباز شریف اور عاصم منیر کا شکریہ اداکرنے سے کررہے ہیں۔وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں مسلم سربراہ کانفرنس، ایٹمی دھماکوں اور جنگ مئی کے بعد یہ وہ تاریخی لمحات ہیں جو سنہری حروف میں لکھے جائیں گے اگر آئی ایم ایف نے سنہری حروف میں لکھنے کے لیے اتنا سونا استعمال کرنے کی اجازت دی؟ ایران مذاکرات کے لیے دس نکات پہلے ہی سامنے لا چکا ہے جن میں زیادہ تر ایسے ہیں جو امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے تسلیم کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہیں خاص طور پر آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول، خطے سے امریکی اڈوںکا خاتمہ، امریکی افواج کا انخلا اور ایران کو معاوضے کی ادائیگی۔ اسرائیل نے لبنان پر خوفناک اور وسیع وعریض حملے کرکے مذاکرات کو انعقاد سے پہلے ہی اور اولین مرحلے میں سبوتاڑ کرنے کی کوشش کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ٹویٹ میں واضح لکھا تھا کہ جنگ بندی میں لبنان شامل ہے۔ مذاکرات کے باوجود بیروت اور ایران ہائی الرٹ پر ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ جس جنگ بندی پر خوشیاں منائی جارہی ہیں اس کا ایک فریق امریکا اور یہود مکمل طور پر ناقابل اعتبار ہیں۔ جنگ بندی کے اگلے ہی لمحے، دس منٹ میں لبنان کے درجنوں مقامات پر حملے کرکے اور سیکڑوں لوگوں کو شہید کرکے اسرائیل اور امریکا نے جنگ بندی کو توڑ دیا۔ مستقبل میں کسی معاہدے پر پورا اترنے کی ان سے کیا توقع کی جاسکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ امریکا کسی بھی صورت ایران سے آبنائے ہر مز کھلوانے میں ناکام رہا تھا۔ اس نے ناٹو، اپنے یورپی اور مشرقی اتحادیوں یہاں تک کہ چین کو بھی پکارا کہ وہ آبنائے ہر مز کھلوانے میں اپنا کردار ادا کریں لیکن کسی نے حامی نہیں بھری۔ عالمی ماہرین کے مطابق 15 اپریل کے بعد تیل کی قیمتوں میں دھماکا خیز اضافہ ہونا تھا جس کے نتیجے میں صدر ٹرمپ کو دنیا بھر سے گالی پڑنی تھی۔ اسی لیے وہ ایران کے خلاف غلیظ زبان استعمال کرکے اپنی بے بسی کا اظہار کررہا تھا۔امریکا نے یہ جنگ اس سوچ کے ساتھ شروع کی تھی کہ چند دنوں میں ایرانی حکومت امریکا کے پیروں میں آن گرے گی۔ امریکا کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کردے گا بلکہ اتنے طویل عرصے بند رکھے گا لیکن ایران نے ایسا کردکھایا۔ ایسے میں یہ پاکستانی حکمران تھے جو آگے بڑھے۔ پندرہ روزہ جنگ بندی اور اسلام آباد میں مذاکرات کسی صورت خطے کو مستقل امن کی طرف نہیں لے جائیں گے بلکہ امریکا اور اسرائیلی یہودی وجود کو اس بات کا موقع فراہم کریں گے کہ وہ اپنی کمزوریوں کو دور کرکے مزید تیاریوں کے ساتھ دوبارہ ایران پر حملہ آور ہوں۔
ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہورہا ہے کہ امریکا اور اس کا ورلڈ آڈر گرنے کی حد تک پسپا ہوچکا ہو اور پسپائی کے اس سفر کو روکنا خود امریکا کے بس میں بھی نہ ہو۔ ایسے میں کوئی مسلم ملک آگے بڑھا ہو اور اسے بحفاظت اس مشکل صورتحال سے نکال لایا ہو۔ افغانستان اس کی واضح مثال ہے۔ افغانستان کی دلدل میں امریکا کا بھی وہی حال ہونے والا تھا جو سوویت یونین کا ہوا اتھا۔ ایسے میں یہ پاکستان اور قطر تھے جنہوں نے امریکا کے لیے افغانستان سے سیف ایگزٹ کا راستہ فراہم کیا تھا۔ شام میں بشار الاسد کی ظالم حکومت کے خلاف جب مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور ایک اسلامی حکومت کے قیام کو اپنی منزل قرار دیا تھا تو یہ بات امریکا کے لیے انتہائی خوفناک اور ناقابل قبول تھی۔ اس کا مطلب عرب میں انقلاب، مشرق وسطیٰ سے اسرائیل اور امریکا کی سپرپاور کی حیثیت کا خاتمہ ہوتا۔ برزنسکی اور ہنری کسنجر کا کہنا تھا جو بھی مشرق وسطیٰ کو کنٹرول کرتا ہے وہ دنیا کو کنٹرول کرتا ہے اور دنیا کا رہنما ہوتا ہے۔ لہٰذا شام کی صورتحال کو اپنے حق میں کرنے کے لیے امریکا نے پہلے سعودی عرب، قطر، یواے ای اور ترکیے کو یہ کردار دیا کہ وہ مجاہدین میں اپنا اثرر سوخ بڑھا کر انہیں اپنی مرضی پر چلنے پر مجبور کریں۔ ترکیہ اس مشن میں کامیاب رہا۔ ساتھ ہی امریکا نے ایران کو یہ کردار دیا کہ وہ بشار کی اس وقت تک حفاظت کرے جب تک امریکا کو شام میں بشار کا متبادل نہ مل جائے۔ یوں امریکا مسلم ممالک کی مددسے شام میں کامیاب ہوگیا۔ غزہ میں بھی ایسا ہی ہوا جہاں حماس اور غزہ کے لوگوں کی استقامت نے اسرائیل اور امریکا کے لیے ان پر قابو پانا مشکل بنادیا۔ ایسے میں امریکا نے مصر، سعودی عرب اور اردن کو استعمال کیا جنہوں نے اہل غزہ کو ایسی شرائط ماننے پر مجبور کیا جو کسی فاتح کے لیے قابل قبول نہیں ہوتیں۔ ٹرمپ بورڈ آف پیس بناکر جو کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے وہ خطے کے مسلم ممالک کی مددکے بغیر ممکن نہیں۔
امریکا اور اسرائیل نے جب 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تو دنیا نے ایک مسلم ملک کی ایک حیرت انگیز قوت اور استقامت دیکھی جس نے نہ صرف یہ کہ خود جھکنے سے انکار کردیا بلکہ جارح قوتوں کو بھی ایک ناقابل یقین مشکل صورتحال میں ڈال دیا۔ 38 دن تک ایران کا کمانڈ اسٹرکچر کھڑا رہا۔ اس کے میزائل بغیر کسی تعطل اور وقفے کے دشمنوں پر برستے رہے۔ اس نے نا صرف یہ کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال لیا بلکہ کنٹرول کو برقرار بھی رکھا۔ افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے نہیں کیا۔ واشنگٹن اور تل ابیب ایران کے حوالے سے اپنے ہر اعلان کردہ فوجی مقصد میں ناکام رہے۔ ناکامی اور بے بسی کے ان لمحات میں امریکا نے مسلم دنیا کے تین ممالک پاکستان، ترکیہ اور مصر کو ایران سے مذاکرات کے نام پر آگے کیا تاکہ وہ ایران پر اپنا اثر رسوخ ڈال کر اسے جنگ بندی پر مجبور کرسکیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ مسلم ممالک ایران کے قوت بازو بن کر، اپنا وزن ایران کے پلڑے میں ڈال کر خطے سے امریکا کی بالا دستی کے ہمیشہ کے خاتمے کے لیے کوشاں ہوتے وہ امریکا اور اسرائیل کی گرتی ہوئی ساکھ کو جنگ بندی اور مذاکرات کی میز پر لاکر بچانے میں لگ گئے۔ مسلم ممالک کی حکمران اشرافیہ ایسا کیوں کررہی ہے ان شائ اللہ بشرط زندگی پھر کبھی۔اتنا سونا استعمال کرنے کی اجازت دی؟ ایران مذاکرات کے لیے دس نکات پہلے ہی سامنے لا چکا ہے جن میں زیادہ تر ایسے ہیں جو امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے تسلیم کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہیں خاص طور پر آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول، خطے سے امریکی اڈوںکا خاتمہ، امریکی افواج کا انخلا اور ایران کو معاوضے کی ادائیگی۔ اسرائیل نے لبنان پر خوفناک اور وسیع وعریض حملے کرکے مذاکرات کو انعقاد سے پہلے ہی اور اولین مرحلے میں سبوتاڑ کرنے کی کوشش کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ٹویٹ میں واضح لکھا تھا کہ جنگ بندی میں لبنان شامل ہے۔ مذاکرات کے باوجود بیروت اور ایران ہائی الرٹ پر ہیں۔
جنگ بندی: خوشی سے مرنہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
adminshuja
اگلی خبر →
ایران کی فتح

Leave a Reply