قاسم جمال
وہ جو وقت کے خدا بنے ہوئے تھے اور اپنی طاقت کے گھمنڈ میں پوری دنیا کو تاراج کرنے کے در پر تھے۔ جب جی چاہتا جس پر جی کرتا اس پر چڑھ دوڑتے، ہیروشیما پر ایٹم بم گرا کے لاکھوں جانوں کو بھسم کر دیا گیا اور آج تک اس کے اثرات رونما ہورہے ہیں۔ اس پر بس نہ ہوا تو ویت نام، افغانستان، شام، عراق، فلسطین و غزہ میں امریکا اسرائیل گٹھ جوڑکا خمیازہ پوری دنیا بھگت رہی ہے اور اس کا تازہ شکار ایران ہے۔ چالیس روز قبل امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کیا۔ اور آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر قیادت کو ختم کردیا۔ ایران پر بمباری کر کے اس کے کئی اہم مقامات کو تباہ کردیا گیا لیکن اس کے باوجود ایران تنہا ڈٹا رہا۔ امریکا کو اپنی ناجائزاولاد اسرائیل کے ایما پر ایران پر مسلط کی جانے والی یلغار ناصرف اسے مہنگی پڑھ گئی بلکہ ذلت ورسوائی بھی ان کا مقدر ٹھیری۔ پوری قیادت ختم کیے جانے کے باوجود ایران کا امریکا کے سامنے نہ جھکنا اور ڈٹ کر ان کا مقابلہ کرنا پوری دنیا کو حیران اور پریشان کر کے رکھ دیا۔ ایرانیوں کے عزم، جوش اور ولولے نے امریکا اسرائیل کے ہوش ا±ڑا کر رکھ دیے۔ امریکا نے پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر، قطر کے ذریعے ایران کو ثالثی پر مجبور کیا۔ جبکہ سازش کے تحت اسرائیل نے سعودی عرب پر میزائل بھی داغے اور اس کا الزام ایران لگایا گیا تاکہ یہ جنگ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ہوجائے اور یہ سب مزے سے تماشا دیکھیں۔ دنیا اس سے قبل ایران عراق جنگ اور عراق کویت جنگ میں اس کا نظارہ کر چکی ہے۔ لیکن شاباش ہے ایران اور سعودی عرب پر کہ دونوں ممالک نے اسرائیل امریکا کی اس سازش کو اچھی طرح سمجھا اور جوش کے بجائے ہوش سے کام لیتے ہوئے امریکا اسرائیل کی اس خوفناک سازش کو ناکام بنا دیا۔
گزشتہ چالیس دنوں میں ایرانی عوام اور مسلح افواج کی مزاحمت نے دشمن کو پسپائی پر مجبورکردیا۔ ایران نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک دشمن کو پچھتاوے اور مایوسی کی کیفیت میں نہ پہنچادیا جائے اور ملک کے خلاف طویل المدتی خطرات ختم نہ ہو جائیں۔ آج جب 20 روز کے لیے جنگ بندی ہوگئی ہے۔ یہ جنگ مسلم ممالک کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ امریکا کی سازشوں کو اچھی طرح پہنچانیں اور امریکا کی غلامی سے نکل آئیں۔ امریکا اور اسرائیل گریٹر اسرائیل کی سازشوں میں مصروف ہیں اور یہ قوتیں مسلمانوں کی تباہی وبربادی چاہتی ہیں۔ یہ قوتیں کبھی مسلمانوں کی دوست نہیں ہوسکتیں۔ امریکی صدر ٹرمپ بالکل پاگل ہوچکے ہیں۔ خود امریکا میں ان کے خلاف آواز ا±ٹھ رہی ہے۔ جنگ بندی پر ایران میں جشن منایا جارہا ہے۔ ایران کے دارالحکومت تہران میں جنگ بندی کے اعلان کے بعدلوگ ایران کے رہبر اعلی مجتبیٰ خا منہ ای کی تصاویراور جھنڈے ا±ٹھائے سڑکوں پر نکل آئے۔ بلاشبہ ایرانی عوام کی طاقت اور ان کی تاریخی مذاحمت نے امریکا اور اسرائیل کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا ہے۔ چالیس دن کی اس جنگ میں امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بارود کی برسات کی اور ایران کو بھی غزہ بنانے کی کوشش کی۔
عارضی جنگ بندی کے بعد ایران میں متاثرہ شہروں میں صفائی اور تعمیر نو کے ابتدائی مراحل کا آغاز ہوگیا ہے۔ شہر میں تباہ ہونے والی عمارتوں کا سڑکوں پر پھیلا ملبہ ہٹانے کا کام بھی شروع ہوگیا ہے اور سڑکوں کو دوبارہ کھولا جارہا ہے۔ جنگ بندی کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جارہا ہے اور یہاں گزرنے والے بحری جہازوں سے محصولات ایران اور عمان وصول کریں گے۔ ایران ان فنڈز کو تعمیر نو کے لیے استعمال کرے گا۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا جنگ بندی پر کہنا ہے کہ جنگ بندی میں ایران کے مطلوبہ عمومی اصولوں کی قبولیت شامل ہے۔ ہمارے عظیم رہنما سید علی خامنہ ای کے خون کا ثمر اور میدان عمل میں عوام کی مکمل موجودگی ہماری(جاری ہے)
بہت بڑی کامیابی ہے۔ آج سے ہم سب متحد رہیں گے۔ چاہے سفارت کاری کا میدان ہو، چاہے دفاع کا محاذ ہو، چاہے سڑکوں پر عوامی منظر نامہ ہو یا خدمات کی فراہمی کا دائرہ ہم ہر جگہ ایک ساتھ کھڑے رہیں گے۔ بلاشبہ ایران کو اس جنگ میں ہر طرح سے برتری حاصل ہے۔ امریکا اس کے بیش تر مطالبات منظور کر چکا ہے۔ اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائرلاپڑ نے ایران سے جنگ بندی کو سیاسی تباہی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں ایسی سیاسی تباہی کبھی نہیں آئی۔ اسرائیل اس وقت بھی میز پر نہیں تھا جس میں ہماری قومی سلامتی سے متعلق فیصلے کیے گئے۔ نیتن یاہو سیاسی طور پر حکمت عملی کے محاذ پر ناکام رہے۔ روس کی وزارت خارجہ نے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو ایک بدترین شکست ملی ہے۔ برطانونی اخبار فنانشل ٹائمزکے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کئی ہفتوں سے پاکستان پر دباو? ڈال رہی تھی کہ وہ ایران کو عارضی جنگ بندی پر آمادہ کرے۔ جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے۔ پاکستان کی بیک چینل سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اسرائیل ایران نے دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ بلاشبہ یہ ایران کی بہت بڑی فتح ہے اور تاریخ میں ایران کی اس عظیم فتح کو دنیا میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ بے شک ایران نے دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کی طاقت وقوت سے لیس دشمن کو شکست فاش دی ہے اور دنیا میں حسینی کردار کو ایک بار پھر زندہ کیا ہے۔
ایران کی فتح
adminshuja
اگلی خبر →
ایران کا المیہ اور ہمارا زاویہ نظر
← پچھلی خبر
جنگ بندی: خوشی سے مرنہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

Leave a Reply