کالم:میر بابر مشتاق
یہ منظر محض ایک تصویر نہیں، ایک نظریہ ہے۔ ایک اعلان ہے۔ ایک پیغام ہے ان کے لیے بھی جو طاقت کے ایوانوں میں بیٹھ کر فیصلے کرتے ہیں، اور ان کے لیے بھی جو تاریخ کے اوراق میں زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف کا اپنے طیارے میں خالی نشستوں پر میناب کے شہید بچوں کی تصاویر رکھ کر مذاکرات کے لیے جانا، بظاہر ایک علامتی عمل لگ سکتا ہے، مگر درحقیقت یہ ایک پوری قوم کے اجتماعی شعور، اس کی غیرت، اور اس کے نظریاتی تسلسل کا عکاس ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سفارت کاری محض الفاظ کا کھیل نہیں رہتی، بلکہ خون کی حرمت اور قربانی کی یاد کے ساتھ جڑ جاتی ہے۔ جب کوئی سفیر کسی بھی قوم کا طیارہ ا±ڑان بھرتا ہے تو اس کے ساتھ عموماً دستاویزات، مشیر، اور سفارتی چالیں ہوتی ہیں، مگر قالیباف کے ساتھ وہ بچے تھے جو کبھی بڑے نہ ہو سکے، جن کی ہنسی کبھی گلیوں میں گونجی مگر آج صرف تصویروں میں مسکراتی ہے۔ یہ منظر دیکھ کر کوئی بھی شخص یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا واقعی سفارت کاری کا مطلب صرف مفادات کا سودا ہے؟ یا پھر کچھ اور بھی ہے؟
میناب کے وہ 168 معصوم بچے، جو ظلم و درندگی کا نشانہ بنے، صرف ایران کے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے بچے تھے۔ ان میں سے ہر بچے کی ایک کہانی تھی، ایک خواب تھا، ایک مستقبل تھا جو کبھی آیا ہی نہیں۔ کچھ اسکول جا رہے تھے، کچھ اپنی ماں کی گود میں کھیل رہے تھے، کچھ نے ابھی بولنا سیکھا تھا۔ ان کی شہادت نے ایک سوال اٹھایا تھا: کیا طاقتوروں کے مفادات کے سامنے معصوم جانوں کی کوئی قیمت نہیں؟ کیا وہ بچے جنہوں نے کبھی کسی کو دکھ نہیں دیا، صرف اس لیے قتل کر دیے گئے کہ وہ کسی خاص خطے میں پیدا ہوئے تھے؟ کیا ان کی ماوں کے آنسووں کی کوئی قیمت نہیں؟ مگر ایران نے اس سوال کا جواب اپنے عمل سے دیا۔ اس نے ان بچوں کو بھلایا نہیں، بلکہ انہیں اپنی سب سے بڑی سفارتی طاقت بنا دیا۔
”میناب 168“ کے نام سے مذاکرات کا عنوان رکھنا، دراصل دنیا کو یہ باور کروانا ہے کہ یہ مذاکرات کسی کمزور قوم کی مجبوری نہیں، بلکہ ایک زخمی مگر باوقار قوم کا مو?قف ہیں۔ یہ نام ایک یاد دہانی ہے کہ میز کے دوسری طرف بیٹھے لوگ وہی ہیں جن کے ہاتھ ان معصوم بچوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ یہ کوئی سفارتی چال نہیں، یہ ایک اخلاقی فتویٰ ہے۔ قالیباف نے اس نام کے ذریعے دنیا کو بتا دیا کہ ہم وہ قوم ہیں جو اپنے مردوں کو زندہ رکھتی ہے، اپنے زخموں کو بھلاتی نہیں بلکہ انہیں اپنی طاقت بناتی ہے۔
وہ طیارے کی خالی نشستیں چیخ رہی تھیں۔ ایک نشست پر وہ بچہ تھا جس نے آخری سانس تک ”ماں“ کہا۔ دوسری پر وہ بچی تھی جو اپنی پہلی کتاب لے کر اسکول جا رہی تھی وہ کتاب جو کبھی کھلی نہیں۔ تیسری پر وہ بچہ تھا جس نے کبھی کسی سے دشمنی نہیں کی۔ چوتھی پر وہ بچہ تھا جس کے والدین آج بھی اس کی رات کی دعائیں سنتے ہیں۔ پانچویں پر وہ بچی تھی جس نے اپنی زندگی میں صرف مسکرانا سیکھا تھا۔ قالیباف نے ان سب کو ساتھ بٹھایا۔ سفارت کاری کی میز پر۔ طاقت کے ایوانوں میں۔ جہاں عام طور پر مفادات کی باتیں ہوتی ہیں، وہاں ایک سفیر اپنے ساتھ معصومیت کی تصویریں لے کر آیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب دنیا کی سفارت کاری شرم سے سر جھکا بیٹھی۔ کیونکہ طاقتور لوگ ہمیشہ بھول جاتے ہیں کہ معصوم خون کبھی خشک نہیں ہوتا۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ تصویریں جنہیں وہ ”علامت“ کہتے ہیں، کسی حقیقی ماں کے زندہ جگر کے ٹکڑے تھے۔
دنیا کی سیاست میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ قومیں اپنے مفادات کے لیے اپنے ہی اصولوں کا سودا کر لیتی ہیں۔ کل کے دشمن آج کے اتحادی بن جاتے ہیں، اور شہداءکی قبریں خاموشی سے نظر انداز کر دی جاتی ہیں۔ کتنی ہی قومیں ہیں جنہوں نے اپنے شہداءکو بھلا کر معاشی ترقی کے خواب دیکھے ؟ کتنے ہی مظلوم آج ظالموں کے ساتھ بیٹھے ہیں، صرف اس لیے کہ انہیں حکومت چلانی ہے؟ مگر یہاں ایک مختلف منظر ہے۔ محمد باقر قالیباف کا یہ عمل اس روایت کو توڑتا ہے۔ وہ مذاکرات کی میز پر صرف ایک سیاستدان کے طور پر نہیں بیٹھے، بلکہ ایک قوم کے نمائندے کے طور پر بیٹھے ہیں ایسی قوم جو اپنے شہداءکو صرف یاد نہیں رکھتی بلکہ ہر فیصلے میں انہیں ساتھ لے کر چلتی ہے۔ یہی فرق ہوتا ہے ایک ”ریاست“ اور ایک ”قوم“ میں۔ ریاستیں مفادات کے تحت فیصلے کرتی ہیں، مگر قومیں اصولوں پر زندہ رہتی ہیں۔ ریاستیں چار سال کے انتخابات کے لیے جیتی ہیں، قومیں صدیوں تک اپنی شناخت سنبھال کر رکھتی ہیں۔
کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے ہتھیار یا معیشت نہیں ہوتے، بلکہ اس کا اجتماعی شعور ہوتا ہے۔ اور یہ شعور تب زندہ رہتا ہے جب قوم اپنے شہداءکو یاد رکھتی ہے۔ ایران نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے شہداءکو محض یاد نہیں کرتا بلکہ انہیں اپنی پالیسیوں کا حصہ بناتا ہے۔ چاہے وہ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت ہو یا میناب کے معصوم بچے؛ ہر قربانی کو ایک نظریاتی تسلسل کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران میں شہادت ایک انجام نہیں بلکہ ایک آغاز سمجھی جاتی ہے۔ جب کوئی قوم اپنے مردوں کو اسی طرح زندہ رکھتی ہے جیسے زندہ لوگ ہوتے ہیں، تو وہ قوم کبھی شکست نہیں کھاتی۔
یہ واقعہ صرف ایران تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ یہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک آئینہ ہے۔ ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا: کیا ہم اپنے شہداءکو اسی طرح یاد رکھتے ہیں؟ کیا ہمارے فیصلوں میں ان کی قربانیوں کی جھلک نظر آتی ہے؟ یا ہم وقتی مفادات کے لیے سب کچھ بھلا دیتے ہیں؟ فلسطین، کشمیر، شام، عراق، یمن ہر جگہ معصوم خون بہا ہے۔ ہر روز بچے کھنڈرات میں دب رہے ہیں۔ مگر کیا ہم نے کبھی ان قربانیوں کو اپنی سفارت کاری کا حصہ بنایا؟ کیا کبھی کسی مسلم سفیر نے طیارے میں شہید بچوں کی تصاویر رکھیں؟ اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے شہداءکو صرف تقریروں اور بیانات تک محدود کر دیا ہے۔ ہم جمعے کو ان کے نام لیتے ہیں، اور پیر کو انہیں بھول جاتے ہیں۔
قومیں صرف جغرافیہ سے نہیں بنتیں، بلکہ نظریات سے بنتی ہیں۔ وہ قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنے شہدائ کو یاد رکھتی ہیں، اپنے اصولوں پر قائم رہتی ہیں، اور اپنے فیصلوں میں غیرت اور وقار کو مقدم رکھتی ہیں۔ ایران کا یہ عمل اسی حقیقت کی ایک جھلک ہے۔ طیارے کی خالی نشستوں پر رکھی گئی وہ تصاویر محض کاغذ کے ٹکڑے نہیں، بلکہ ایک پیغام ہیں: ”ہم تمہیں بھولے نہیں ہیں“۔ یہ پیغام دشمن کے لیے بھی ہے اور اپنے عوام کے لیے بھی۔ دشمن کے لیے یہ ایک انتباہ ہے کہ یہ قوم اپنے زخموں کو یاد رکھتی ہے، اور اپنے شہداءکے خون کا حساب مانگنا جانتی ہے۔ اور اپنے عوام کے لیے یہ ایک تسلی ہے کہ ان کے بچوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔
آج جب دنیا مفادات کی سیاست میں الجھی ہوئی ہے، ایسے میں یہ منظر ہمیں ایک مختلف راستہ دکھاتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ عزت اور وقار کا کوئی متبادل نہیں، شہداءکی یاد ایک قوم کی طاقت ہوتی ہے، اور اصولوں پر قائم رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔ یہ فیصلہ ہر قوم کو خود کرنا ہوتا ہے کہ وہ کس راستے پر چلنا چاہتی ہے۔ کیا وہ وقتی فائدوں کے لیے اپنے ماضی کو بھلا دے؟ یا اپنے شہداءکی یاد کو اپنے مستقبل کی بنیاد بنائے؟ ایران نے اپنا راستہ چن لیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ باقی دنیا خصوصاً مسلم دنیا کب جاگے گی؟ قومیں اپنے شہدائ کے لہو سے بنتی ہیں، اور انہی کے نام سے زندہ رہتی ہیں۔، کچھ اپنی ماں کی گود میں کھیل رہے تھے، کچھ نے ابھی بولنا سیکھا تھا۔ ان کی شہادت نے ایک سوال اٹھایا تھا: کیا طاقتوروں کے مفادات کے سامنے معصوم جانوں کی کوئی قیمت نہیں؟ کیا وہ بچے جنہوں نے کبھی کسی کو دکھ نہیں دیا، صرف اس لیے قتل کر دیے گئے کہ وہ کسی خاص خطے میں پیدا ہوئے تھے؟ کیا ان کی ماوں کے آنسووں کی کوئی قیمت نہیں؟ مگر ایران نے اس سوال کا جواب اپنے عمل سے دیا۔ اس نے ان بچوں کو بھلایا نہیں، بلکہ انہیں اپنی سب سے بڑی سفارتی طاقت بنا دیا۔مذاکرات کا عنوان رکھنا، درا صل دنیا کو یہ باور کروانا ہے کہ یہ مذاکرات کسی کمزور قوم کی مجبوری نہیں، بلکہ ایک زخمی مگر باوقار قوم کا مو?قف ہیں۔ یہ نام ایک یاد دہانی ہے کہ میز کے دوسری طرف بیٹھے لوگ وہی ہیں جن کے ہاتھ ان معصوم بچوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ یہ کوئی سفارتی چال نہیں.
، یہ ایک اخلاقی فتویٰ ہے۔ قالیباف نے اس نام کے ذریعے دنیا کو بتا دیا کہ ہم وہ قوم ہیں جو اپنے مردوں کو زندہ رکھتی ہے، اپنے زخموں کو بھلاتی نہیں بلکہ انہیں اپنی طاقت بناتی ہے۔
وہ طیارے کی خالی نشستیں چیخ رہی تھیں۔ ایک نشست پر وہ بچہ تھا جس نے آخری سانس تک ”ماں“ کہا۔ دوسری پر وہ بچی تھی جو اپنی پہلی کتاب لے کر اسکول جا رہی تھی وہ کتاب جو کبھی کھلی نہیں۔ تیسری پر وہ بچہ تھا جس نے کبھی کسی سے دشمنی نہیں کی۔ چوتھی پر وہ بچہ تھا جس کے والدین آج بھی اس کی رات کی دعائیں سنتے ہیں۔ پانچویں پر وہ بچی تھی جس نے اپنی زندگی میں صرف مسکرانا سیکھا تھا۔ قالیباف نے ان سب کو ساتھ بٹھایا۔ سفارت کاری کی میز پر۔ طاقت کے ایوانوں میں۔ جہاں عام طور پر مفادات کی باتیں ہوتی ہیں، وہاں ایک سفیر اپنے ساتھ معصومیت کی تصویریں لے کر آیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب دنیا کی سفارت کاری شرم سے سر جھکا بیٹھی۔ کیونکہ طاقتور لوگ ہمیشہ بھول جاتے ہیں کہ معصوم خون کبھی خشک نہیں ہوتا۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ تصویریں جنہیں وہ ”علامت“ کہتے ہیں، کسی حقیقی ماں کے زندہ جگر کے ٹکڑے تھے۔
وہ خالی نشستیں جو خالی نہیں تھیں
adminshuja
اگلی خبر →
یہودیوں کا باطل دعویٰ

Leave a Reply