Daily Shujaat Quetta
June 26, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
ایران جنگ میں اللہ نے پاکستان سے کام لیا، دنیا ہمیں پیس میکر کے نام سے جانتی ہے: اسحاق ڈارملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کا انعقادنیتن یاہو کی مشکلات میں مزید اضافہ، ٹرمپ امریکا ایران ڈیل کو اسرائیلی مؤقف پر ترجیح دینے لگےامریکا کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کیساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنایران جنگ میں اللہ نے پاکستان سے کام لیا، دنیا ہمیں پیس میکر کے نام سے جانتی ہے: اسحاق ڈارملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کا انعقادنیتن یاہو کی مشکلات میں مزید اضافہ، ٹرمپ امریکا ایران ڈیل کو اسرائیلی مؤقف پر ترجیح دینے لگےامریکا کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کیساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکن

یہودیوں کا باطل دعویٰ

کالم:سردار احمد تبسم گڈانی
یہودیوں کا باطل دعویٰ تھا کہ وہ اللہ پاک کے بہت لاڈلے ہیں قریب ہیں جنت کے حقدار ہیں سب سے اچھے ہیں وغیرہ وغیرہ، تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان کے دعوے کو رد کرتے ہوئے فرمایا کہ: ترجمہ: ”اِن سے کہو کہ اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لیے مخصوص ہے، تب تو تمہیں چاہیے کہ موت کی تمنا کرو، اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو“۔ (سورہ البقرہ: 94) یعنی اگر تم کہتے ہو کہ ہم جنت کے حقدار ہیں اللہ کے مقرب ہیں تو مرنے کی تمنا اور آرزو کرو تو تمہیں پتا چل جائے گا کہ تمہاری کیا حیثیت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں دراصل یہود کے ایک غلط دعوے کا جواب ہے، جس میں وہ اپنے آپ کو اللہ کے نزدیک خاص اور جنت کا حقدار سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو حکم دیا کہ ان سے ایک سادہ مگر فیصلہ کن سوال کریں۔ ”اگر تم یہ دعویٰ کرتے ہو کہ آخرت (جنت) صرف تمہارے لیے مخصوص ہے اور باقی لوگوں کے لیے نہیں، تو پھر تمہیں چاہیے کہ تم موت کی تمنا کرو کیونکہ موت کے بعد ہی تم اس نعمت کو حاصل کرو گے اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو“۔
تفسیر: یہود کا باطل دعویٰ؛ یہود کہتے تھے، ہم اللہ کے چہیتے اور اس کے بیٹے ہیں، ”جنت صرف ہمارے لیے ہے“۔ یہ آیت ان کے اسی غرور اور جھوٹے یقین کو چیلنج کرتی ہے۔ موت کی تمنا بطور دلیل اللہ تعالیٰ نے ایک سادہ معیار رکھا: اگر واقعی جنت تمہارے لیے مخصوص ہے اور تم اللہ کے خاص بندے ہو تو پھر تمہیں موت سے ڈرنا نہیں چاہیے، بلکہ خوشی سے اس کی آرزو کرنی چاہیے تاکہ جلد جنت میں جا سکو۔ انکار ہی جھوٹ کی دلیل ہے۔ آگے کی آیت (95) میں اللہ فرماتے ہیں کہ: ”یقین جانو کہ یہ کبھی اس کی تمنا نہ کریں گے، اس لیے کہ اپنے ہاتھوں جو کچھ کما کر انہوں نے وہاں بھیجا ہے، اس کا اقتضا یہی ہے (کہ یہ وہاں جانے کی تمنا نہ کریں) اللہ ان ظالموں کے حال سے خوب واقف ہے“۔ اصل پیغام (ہم سب کے لیے) یہ آیت صرف یہود کے لیے نہیں بلکہ ہر انسان کے لیے سبق ہے: محض دعویٰ کرنا کافی نہیں، اصل چیز اعمال ہیں، جو شخص نیک اور سچا ہو، وہ موت سے نہیں ڈرتا بلکہ اسے اللہ سے ملاقات کا شوق ہوتا ہے لیکن: جو گناہوں میں ڈوبا ہو، وہ موت سے گھبراتا ہے۔خلاصہ: یہ آیت ایک زبردست منطقی دلیل ہے اگر تم جنت کے حق دار ہو موت کی تمنا کرو اگر تم موت سے ڈرتے ہو تمہارا دعویٰ جھوٹا ہے۔ یہودیوں کی یہ پوری تاریخ رہی ہے کہ وہ خدا کی کتابوں اور انبیاءکے لائے ہوئے دین کو بدل دیتے رہے ہیں، یہاں تک کہ انہیں اپنی جانب بھیجے ہوئے انبیائ کی سیرتوں کو مسخ کرنا پڑتا تو دیدہ دلیری سے یہ کام کر ڈالتے، نبیوں کو قتل کر دیتے یا دوسروں سے کروا دیتے، جو بھی ان کے خلاف ہوتا اسے بدنام کرتے، تاکہ ان کا نسلی شملہ اونچا رہے اور ان کا مذہبی دھندا چلتا رہے۔
اب دین اسلام کے بعد ان سے امامت ہی چھین لی گئی قبلہ بدل دیا گیا، نئی شریعت و رسالت دے دی گئی، اور انہیں مغضوب قرار دے دیا گیا، اب انہوں نے مسلمانوں میں بھی اللہ کے آخری پیغمبر کی صاف شفاف سیدھی شریعت کو مسخ کرنے کے لیے، ایک اندرونی واردات پلان کی اور یہ ثابت کرنے کی واردات ڈالی کہ دین اسلام کوئی ”نظریات“ نہیں ہے بلکہ یہ سارا کا سارا ایک قبیلے اور نسل کا نام ہے، جو تعبیر اور تشریح نسلی سے ہٹ کر یونیورسل ہوگی اسے جھوٹا قرار دے دو اور یہ پیوند لگا دو کہ نبی کریم کی پوری جدوجہد کا محور و مقصد اپنے خاندان کے لوگوں کی نسل کی بنیاد پر بادشاہی قائم کرنا تھا، پیغمبر کی تربیت میں کھوٹ تھی اور انہیں مردم شناسی نہیں آتی تھی اسی لیے ان کے بعد ان کے تیار کردہ سارے کے سارے لوگ دین سے پھر گئے تھے، لہٰذا ان لوگوں کی بنیاد پر کھڑا دین خود بخود مشکوک قرار پا جائے گا! سوچیے کیسی واردات تھی؟ اب آپ سوچیں اگر یہ سارے لوگ منافق قرار پاتے ہیں، تو اللہ پاک نے جو اس دین کو آخری دین اور اس کی حفاظت کرنے کا جو اعلان کیا تھا، وہ دعوے کوئی مانے گا؟

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *