کالم:سیّد شکیل انور
اب وقت آگیا ہے کہ امریکی عوام اپنے حقیقی صدر کا انتخاب کرے جو ا±نہیں ذلت اور رسوائی کے گڑھے میں لے جانے کے بجائے نیک نامی کے بلند مقام پر لے جائے۔ نہیں معلوم کہ اِن دنوں دنیا کے امن کو تہہ وبالا کرکے مسٹر ٹرمپ کو کس طرح کا ل±طف حاصل ہورہا ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اسرائیل کے ہاتھوں آدم کی اولادیں خاک وخون میں غلطاں ہورہی ہیں اور ا±سے امریکا کی پشت پناہی حاصل ہے۔صدر ٹرمپ اپنی بڑھکیں دکھلا کر دنیا کو یہ جھانسہ دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ امریکا خوشحالی کا سفر طے کر رہا ہے جبکہ وہاں مہنگائی ستّر تا سو فی صد بڑھ گئی ہے اور ٹرمپ کے اقدامات سے امریکی عوام ناخوش نظر آرہی ہے۔ دانشمندی کا تقاضا تو یہ ہے کہ مسٹر ٹرمپ اسرائیل کے ہاتھوں میں کھیلنے کے بجائے اپنے عوام کی فلاح وبہبود کی فکر کرتے لیکن وہ بدستور احمقانہ حرکتیں کرنے اور شعبدہ بازی دکھلانے میں مشغول ہیں۔ ا±ن کے اِس عمل کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ دنیا آگ اور انگارے کی دہلیز کی جانب بڑھتی جارہی بے بلکہ امریکی دانشوروں کی مَوت ہونے کا تاثّر بھی ا±بھر رہا ہے۔
وہ زمانہ گزرگیا جب امریکا بہت خوشحال م±لک نظر آتا تھا اور ہر شخص وہاں جانے کا تمنّائی نظر آتا تھا۔ میری اِن اطلاعات کے حوالے سے کچھ لوگ شاید یقین نہ کریں کہ ہمارے م±لک کی طرح امریکا میں بھی بھکاری یعنی بھیک مانگنے والے لوگ دکھائی دیتے ہیں‘ یہ ضرور ہے کہ امریکا میں بھکاریوں کو دیکھنے کے لیے ہمیں اپنی آنکھیں وا کرنی پڑتی ہیں جبکہ اپنے م±لک میں ہم اپنی بند آنکھوں سے بھی بھکاریوں کو دیکھ لیتے ہیں۔ ہم اگر پیدل چل رہے ہوتے ہیں تو ساتھ کھڑے ہوجانے والے بھکاری کی گڑگڑاہٹ س±ن کر ہمارے دل کے دھڑکنے کا انداز بدل جاتا ہے اور ہم موٹرکار میں سوار ہوکر اگر کہیں جارہے ہوتے ہیں
اور سگنل بند ہوجانے کے باعث رکنے پر مجبور ہوتے ہیں تو کار کے دروازے میں نصب شیشے سے یکایک کھٹ کھٹ کی آواز سن کر ہمارے ہوش وحواس بحال ہوجاتے ہیں‘ شیشہ کھٹکھٹانے والا کون ہوتا ہے یہ بتلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکا میں یہ مناظر دیکھنے کو نہیں ملتے ہیں کیونکہ وہاں کے فقیروں کو بھیک مانگنے کی تو آزادی ہے لیکن زبردستی بھیک مانگنا ج±رم ہے یہی وجہ ہے کہ امریکا کے بھکاری ذرا مہذب نظر آتے ہیں۔ وہ سڑکوں کے کنارے یا تجارتی مراکز کے پاس پلے کارڈلیے کھڑے ہوتے ہیں جس پر بڑے حروف میں HELP لکھا ہ±وا ہوتا ہے۔ نیویارک‘ کیلی فورنیا‘ سان فرانسسکو‘ فلوریڈا‘ لاس اینجلس اور ڈین وَر میں بھکاریوں کی خاصی تعداد یکھنے کو ملتی ہے۔ اِسی طرح امریکا میں بے گھر افراد کی بھی خاصی بڑی تعداد ہے جو ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میںبنتی ہے۔ میرے ایک دوست نے ایک چشم دید واقعہ یہ بیان کیا کہ ا±س نے ایک شخص کو نیویارک میں فرج کے ایک خالی کاٹن کے اندر سوتے ہوئے دیکھا تھا۔ امریکا کی بعض ریاستوں میں ہزاروں لوگ بشمول خواتین گھر نہ ہونے کے باعث اپنی موٹرکاروں میں رہائش اختیار کر رکھی ہے۔امریکی صدر کے بڑھکیں مارنے کا انداز کیا ایسا نہیں ہے کہ ابّاجی خود تو بہترین لباس زیب تن کرکے گھوم پھر رہے ہوں اور ا±ن کے بچّے پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوے نظر آئیں۔ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے م±لک کی طرح امریکا میں بھی ج±وتے اور چپّل چوری ہوتے ہیں ایک اضافی بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں م±رغی چوروں کی اطلاعات تو ملتی ہیں لیکن امریکا میں م±رغی چوروں کے علاوہ وہاں انڈے چوری کرنے والوں کی بھی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔کسی م±لک کا ’صدر‘ کیسا ہونا چاہیے اور ا±س کے دائرہ کار اور ا±س کے کیا اختیارات ہیں‘ مَیں اِس سوال کے جواب میں سادہ زبان میں یہ کہوں گا کہ ”م±لک کا صدر اپنی قوم کا باپ ہوتا ہے“۔ صدر ٹرمپ نے اِس نکتے کو غالباً غلط انداز میں لے لیا ہے‘ وہ دنیا بھر کی قوموں کا باپ بننے کی کوشش کرنے لگا ہے۔ ا±س نے یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کی کہ اصلی باپ اور سوتیلے باپ میں فرق ہوتا ہے۔ بہرکیف! دیگر م±لکوں کی قوموں کے باپ کیا کچھ کرتے چلے آئے ہیں اِس معاملے کو کسی اور صفحے پر تحریر کرنے کی کوشش کروں گا‘ فی الحال میرا موضوع سخن امریکی قوم کا باپ مسٹر ٹرمپ ہے۔ مسٹر ٹرمپ نے اپنی قوم کو کیا کچھ دیا ہے ا±س کی جھلک ا±وپر بیان کرچکا ہ±وں۔ سیدنا عیسیٰ? کی ہدایت اور تعلیمات کے مطابق ہتھیاروں کے بنانے اور اپنے تحفّظ کے لیے اپنے پاس رکھنے کی خصوصی اجازت ہے لیکن آپ ? نے دوسری قوموں کو اِس کام کے کرنے سے منع نہیں کیا ہے پھر مسٹر ٹرمپ کس اختیار کے تحت اوروں کو ہتھیار بنانے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
کیا یہ ط±رفہ تماشہ نہیںہے کہ حملہ ایران پر کیا گیا ہے اور ا±سی کو ہتھیار پھینکنے کی ہدایت بھی دی جارہی ہے۔ اِس وقت جب دنیا ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہوگئی ہے‘ کیا خوب ہوتا اگر روس اور چین سمیت سارے چھوٹے بڑے ممالک متحد ہوکر اقوام متحدہ میں چلے جاتے اور ایک عہدنامے کے تحت دنیا کے تمام ممالک کو پابند کرتے کہ جنگ ہونے کی صورت میں بڑے پیمانے پر تباہی مچانے والا ہتھیار کوئی بھی م±لک استعمال نہیں کرے گا اور موجودہ خطرناک ہتھیاروں کو بتدریج تلف کردے گا۔ مسٹر ٹرمپ اپنے تئیں دنیا بھر کی قوموں کا باپ اگر سمجھتا ہے تو اِس نیک کام میں پہل کرے اور عہدنامہ پر پہلا دستخط کرکے اقوام متحدہ میں پیش کردے۔
امریکی عوام کا حقیقی صدر
adminshuja
اگلی خبر →
بڑے ہندوستان کے چھوٹے پن کی تاریخ
← پچھلی خبر
دروازہ بند نہیں

Leave a Reply