تربت سے کوئٹہ جانے والی بسوں کے کرایوں میں غیر معمولی اضافے پر عوامی حلقوں اور طلباءنے احتجاج کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔طلباءکا کہنا ہے کہ اچانک کرایہ بڑھا کر 3700 روپے مقرر کر دیا گیا ہے جو کہ ان کی استطاعت سے باہر ہے۔ انہوں نے شکایت کی کہ انہیں کسی قسم کی رعایت فراہم نہیں کی جا رہی، حالانکہ تربت تا کوئٹہ سفر کرنے والوں میں بڑی تعداد طلباءکی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق یہ اضافہ ان کے ساتھ ناانصافی اور زیادتی کے مترادف ہے۔
عوامی حلقوں نے بھی اس صورتحال پر سخت ردعمل دیتے کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ بسیں نہ صرف مسافروں بلکہ سامان بھی ساتھ لے جاتی ہیں، جس سے سفر مزید تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے بسوں کی حالت کو بھی ناقص اور غیر معیاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھاری کرایہ لینے کے باوجود مسافروں کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی کہ کرایوں کا فوری طور پر ازسرنو جائزہ لیا جائے اور طلبائ کے لیے خصوصی رعایت دی جائے تاکہ وہ بلاوجہ مالی دباو¿ کا شکار نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ اگر کرایوں میں کمی نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا اور اس مسئلے کے حل تک آواز بلند کی جاتی رہے گی۔

Leave a Reply