کوئٹہ ۔ امیر جے یو آئی بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ مدارس رجسٹریشن کے حوالے سے حکومتِ بلوچستان کی جانب سے اخبارات میں بیانات دے کر یہ تاثر دینا کہ مدارس میں افغانی مہاجرین یا غیر ملکی طلبہ بڑی تعداد میں زیرِ تعلیم ہیں، نہ صرف گمراہ کن بلکہ زمینی حقائق کے سراسر منافی ہے، کیونکہ نصیرآباد، پنجگور اور گوادر جیسے علاقوں میں سرے سے کسی غیر ملکی کی مستقل موجودگی ثابت نہیں اور اگر ماضی میں کہیں کوئی موجود بھی تھا تو حکومتی اقدامات کے تحت انہیں پہلے ہی ملک سے نکالا جا چکا ہے، لہٰذا یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ ان علاقوں میں مدارس کی بندش کے لیے آخر کون سا قانونی اور آئینی جواز پیش کیا جائے گا، جبکہ کوئی ٹھوس ثبوت یا مستند وجہ سامنے نہیں لائی جا رہی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ سب محض ایک بہانہ ہے اور اس کے پیچھے کوئی اور ایجنڈا کارفرما ہے۔
ایسے ہتھکنڈے اور تاثر سازی نئی نہیں بلکہ ماضی میں بھی بارہا عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں؛ انہوں نے مزید کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن کا مطالبہ خود جے یو آئی کا ہے مگر ہمارا مو¿قف واضح ہے کہ رجسٹریشن آئین کے دائرے میں سوسائٹی ایکٹ کے تحت ہونی چاہیے جیسا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم کی روح کے مطابق ہے، جبکہ بلوچستان چیریٹی رجسٹریشن اتھارٹی (BCRA) یا کسی بھی غیر آئینی فورم کے ذریعے رجسٹریشن کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ بے بنیاد بیانیے کے بجائے شفاف اور آئینی طریقہ اختیار کرے اور دینی مدارس کو بلاوجہ متنازع بنانے سے گریز کرے۔
ہم اس طرح کے بے بنیاد اور گمراہ کن بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ مدارس کے خلاف حکومتی اقدامات کسی صورت قابلِ برداشت نہیں، حکومت نے جے یو آئی کی ریڈ لائن کراس کرکے مفاہمت کے تمام دروازے خود بند کر دیے ہیں، جس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری بھی حکومت پر عائد ہوگی۔

Leave a Reply