کاکلم :سیّد شکیل انور
بظاہر تو میرا یہ سوال غیر ضروری معلوم ہوتا ہے کیونکہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد یہ کام ۱۹۴۵ءمیں کرچکا ہے جس کے باعث ڈھائی تین لاکھ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور ہزروں کی تعداد میں اپاہج اور زخمی ہوچکے ہیں۔ ا±سی م±لک کا سربراہ آج بھی ا±سی طرح کی حرکت کرنے کا اعلان کرتا پھر رہا ہے۔ جاپان کی قوم مَوت سے اگر خوف زدہ نہ ہوتی تو امریکی سفیر کو نہ تو وہ اپنے م±لک میں خوش آمدید کہتی اور نہ وہ امریکا میں اپنے کاروبار کو وسعت دینے کی کوشش کرتی۔ جاپان والوں نے شاید یہ سوچ رکھا ہے بلکہ یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ دادا کے نصیب میں عذاب لکھا ہ±وا تھا سو ا±نہوں نے جھیل لیا ہم امریکا بہادر سے نفرت مول کر عذاب کو کیوں آواز دیں۔جاپان کے دو بڑے شہر وں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر جس وقت امریکی دہشت گرد ایٹم بم گرارہے تھے ا±س وقت ہیری ایس ٹرومَین وہاں کا صدر تھا اور وہ USS Augusta نامی بحری جہاز پر سَوار ہوکر سَیرو تفریح کرتا ہ±وا ریاست ہَوائی کی جانب جارہا تھا‘ ا±س کی ہدایت پر گرائے جانے والے بم کی کامیابی کی اطلاع جب ا±سے دی گئی تب وہ خوشی سے سرشار ہوگیا اور جہاز کے عملے کو مخاطب کرکے کہنے لگا: ”یہ تاریخ کی سب سے بڑی چیز ہے“۔ کیا وہ شخص انسان کہلانے کا مستحق ہے جو چشم ِ زدن میں لاکھوں افراد کو مَوت کے گھاٹ ا±تاردے اور خوشی کے مارے ناچنے لگے۔ ا±س جہاز پر سَوار لوگوں میں کچھ لوگوں کا بیان ہے کہ ا±نہوںنے ٹرومَین کو اتنا پ±رجوش پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ا±س کی ازحد خوشی منانے کا سبب یہ تھا کہ ا±س کے اِس اقدام کی نتیجے میں جاپان نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ دنیا بھر میں کوئی ایک آدمی بھی ایسا نہ ملے گا جو ا±س شخص کو بہادر کہے گا جو بڑے ہتھیار لے کر کسی اپاہج پر حملہ آور ہوجائے اور ا±سے بے دردی سے ہلاک کردینے کے بعد واہ! واہ! کا نعرہ لگانے لگے۔ ہاں بے شمار لوگ ایسے ملیں گے جو یہ کہہ رہے ہوں گے کہ ایک پاگل شخص نے لاکھوں افراد کا خون اپنے سر لے لیا ہے اور سیدنا عیسیٰ کی تعلیمات کے منافی کام کرکے گناہ گار ہوگیا ہے۔
ٹر±ومَین اور ٹرمپ میں کافی مماثلت ہے‘ دونوں صدور انتہائی متنازع اور تعریف کے حقدار قرار نہیں پائے تھے۔ ٹرو مَین صدر بننے سے پہلے د±کاندار تھے جبکہ ٹرمپ بھی کاروبار ہی سے منسلک تھے۔ ٹرومَین اپنے مخالفین کو جہنّم میں جھونکنے کی باتیں کرتے تھے اور یہی حال مسٹر ٹرمپ کا ہے وہ بھی گالیاں بَک کر اپنی خفگی د±ور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سعودی فرمانروا محمّد بِن سلمان کو مخاطب کرکے بڑے فاخرانہ انداز میں اپنے م±نہ سے بے ہ±ودہ الفاظ کہہ چکے ہیں۔ ٹرومَین لاکھوں بنی آدم کو ہلاکت کی نذر کرکے شاداں ہ±وئے تھے ٹرمپ بھی ایرانی عوام کو پتھّر کے زمانے میں بھیجنے کا خواہش مند ہے۔ ٹرومَین جاپان کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہ±وا تھا ٹرمپ بھی ایران کے ہاتھوں ر±سوا ہوتا ہ±وا نظر آرہا ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اِن بے ہ±ودہ خیالات کو اپنے سینے میں دباکر دنیا سے رخصت ہوجائیں گے۔ ٹرومَین Victory at any Cost کا نعرہ لگاتے تھے اور ٹرمپ America First کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اِسرائیل کے ا±کسانے پر مسٹر ٹرمپ نے ایرانی عوام کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا ہے ا±سے دنیا کے دیگر ممالک ناپسندیدگی کی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں‘ مجھے اِس بات کا بھی یقین ہے کہ ٹرمپ کے کرتوتوں کو امریکی عوام کے علاوہ خود ٹرمپ کے رشتہ داروں نے بھی ایک گھناو¿نا کام قرار دیا ہوگا۔ اِس سے قبل کہ مسٹر ٹرمپ اپنے گھناو¿نے اقدام پر عملدرآمد کرنے کا اعلان کردیں‘ ایران سمیت تمام انسان دوست ممالک باہمی اشتراک کرکے امریکی ایوان کے اراکین کی حمایت حاصل کریں اور مسٹر ٹرمپ کو صدارت کی کرسی سے نیچے ا±تاردیں۔ یہ بات یاد رہے کہ اِسلام نے جہاں مظلوموں کی امداد کرنے کی ہدایت دی ہے وہیں ظالموں کی مدد کرنے کی بھی ترغیب دی ہے اور وہ ترغیب یہ ہے کہ ظالم کو ظلم کرنے سے باز رکھا جائے۔
کیا اِس لڑائی میں ایٹم بم بھی استعمال ہوگا؟
adminshuja
اگلی خبر →
پاکستانی سیاست کی پستی کے اسباب
← پچھلی خبر
فلسطین پھر غائب

Leave a Reply