کالم:شاہنواز فاروقی
انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ نظریے نے قوموں اور ملکوں کی تقدیر کو بدلا ہے اور انہیں ادنیٰ سے اعلیٰ بنایا ہے۔ روس کا جغرافیہ بڑا تھا مگر اس کا کوئی عالمی مقام نہیں تھا مگر سوشلزم کے نظریے نے روس میں انقلاب برپا کردیا اور روس کو سوویت یونین میں ڈھال دیا اور سوویت یونین دیکھتے ہی دیکھتے وقت کی دو سپر پاورز میں سے ایک سپر پاور بن گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ روس کی انقلابی قیادت نے اپنے نظریے کو سوویت یونین تک محدود نہ رکھا بلکہ قیادت نے سوشلسٹ انقلاب کو ”برآمد“ کیا اور اس ”برآمد“ کے نتیجے میں آدھی سے زیادہ دنیا ”سوشلسٹ“ ہوگئی۔ چین ایشیا کا ”مرد بیمار“ تھا۔ اور چین قوم افیون کے نشے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اس کا کوئی حال تھا نہ مستقبل مگر سوشلزم نے چین میں بھی انقلاب برپا کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے چین ایک عالمی طاقت بن کر ابھر آیا۔ آج چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ اس نے 40 سال میں 80 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا ہے۔ آج دنیا میں سب سے زیادہ تحقیقی مقالے چین کے اسکالرز لکھ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں چین نے امریکا اور یورپ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
1947ءمیں اسلام کی نظریاتی طاقت نے پاکستان کے نام سے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست تخلیق کی تھی۔ 1940ءسے 1947 تک کروڑوں لوگ سمجھتے تھے کہ پاکستان ”ناممکن“ کی جستجو ہے۔ لیکن اسلام اور قائداعظم کی قیادت نے ناممکن کو ”ممکن بنادیا۔ قائدا عظم اور ان کے نظریے سے سیاست جیسے کام کو ”عبادت“ بنادیا تھا مگر قائدا عظم اور لیاقت علی خان کے بعد نظریہ پاکستان کی سیاست سے غائب ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے سیاست ”عبادت“ سے ”تجارت“ میں تبدیل ہوگئی۔ بدقسمتی سے نہ پاکستان کے جرنیلو ں کا کوئی نظریہ ہے نہ سیاست دانوں کا۔ جنرل ایوب ملک کے پہلے فوجی آمر تھے اور آمر قادرِ مطلق ہوتا ہے۔ جنرل ایوب چاہتے تو پاکستان کو اس کے نظریے کے سائے میں کھڑا کرکے عظیم بنا سکتے تھے۔ مگر جنرل ایوب نے اسلام کا علمبردار بننے کے بجائے سیکولر ازم کا علمبردار بننا پسند کیا۔ یہ ”نظریاتی غداری“ کا عمل تھا مگر جنرل ایوب کو ملک کے نظریے سے غداری پر کبھی شرمندہ ہوتے نہ دیکھا جاسکا۔ البتہ جب 1965ءمیں جنرل ایوب کو بھارت سے جنگ کرنی پڑ گئی تو اچانک انہیں ملک کا نظریہ شدت سے یاد آیا اور انہوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہندوستان کو معلوم نہیں کہ اس نے ایک خدا پرست قوم کو للکارا ہے۔ جنرل یحییٰ کو ملک کے نظریے کی الف ب بھی معلوم نہیں تھی۔ وہ ہر وقت شراب اور شباب کے نشے میں دھت رہتے تھے۔ 1971ءکی جنگ میں پاک فضائیہ کے سربراہ جنرل یحییٰ سے ملنے پہنچے تو جنرل یحییٰ نے ان سے فرمایا ذرا ٹھیریے ٹیلی وڑن پر نور جہاں کا گیت آنے ہی والا ہے۔ اس کے بعد آپ سے بات ہوگی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بڑے سیاست دان ہونے میں کیا کلام ہے مگر انہوں نے اسلام کا پرچم تھامنے کے بجائے ”اسلامی سوشلزم“ ایجاد کرلیا۔ حالانکہ اسلام سوشلزم کو ایک لمحے کے لیے بھی قبول نہیں کرسکتا تھا۔ اس لیے کہ اسلام ”خدا مرکز“ نظریہ ہے اور سوشلزم ”خدا بیزار“ نظریہ تھا۔ بلاشبہ بھٹو نے قوم کو اسلامی آئین دیا مگر انہوں نے اس آئین کو معاشرے پر نافذ کرنے کے لیے سات سال تک ایک قدم بھی نہ اٹھایا۔ جنرل ضیا الحق اسلام پسند تھے اور وہ دس سال تک اقتدار میں رہے لیکن انہوں نے ایسی اسلامی بینکاری متعارف کرائی جو صرف نام کی ”اسلامی“ تھی ورنہ وہ حقیقت میں سودی بینکاری ہی تھی۔ انہوں نے ملک میں نظام صلوٰةکو اس طرح متعارف کرایا کہ وہ مذاق بن گیا۔ انہوں نے ملک کے تعلیمی اور عدالتی نظام کو اسلامی بنانے کے لیے کچھ بھی نہ کیا۔ بے نظیر بھٹو کو ملک کے نظریے سے کوئی دلچسپی ہی نہیں تھی۔ ان کی اسلامی معلومات کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ وہ ایک جلسے سے خطاب کررہی تھیں کہ پاس کی مسجد سے اذان کی صدا ا±بھری۔ بے نظیر خاموش ہو کر کھڑی ہوگئیں اور فرمایا ”اذان بج رہا ہے“۔ میاں نواز شریف کو دائیں بازو کے مفاد پرست صحافیوں نے اسلام پسند باور کرایا۔ انہوں نے فرمایا شریف خاندان روزے نماز کا پابند ہے مگر شریف خاندان کا خدا ”پیسہ“ تھا اور اس کا نظریہ ”کرپشن“ تھا۔ چنانچہ شریف خاندان نے سیاست سے کھربوں روپے کمائے۔ میاں نواز شریف کبھی لندن میں موجود اپنی جائداد کی ”منی ٹریل“ نہ دے سکے۔ مریم نواز نے جیو کے ایک پروگرام میں آکر فرمایا کہ میری لندن میں کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں۔ بعدازاں معلوم ہوا کہ ان کی جائداد پاکستان میں بھی ہے اور لندن میں بھی۔ جنرل پرویز مشرف جب تک اقتدار میں رہے ملک کو سیکولر اور لبرل بنانے کی سازش کرتے رہے۔ جنرل عاصم منیر خیر سے ”سید“ بھی ہیں اور ”حافظ قرآن“ بھی۔ مگر انہیں پاکستان کے سیاہ و سفید کا مالک بنے ہوئے تین سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہے مگر انہوں نے ملک کو ”اسلامی“ بنانے کے لیے ابھی تک ایک قدم بھی نہیں اٹھایا۔ وہ اپنی تقریروں میں اقبال کے اشعار کوٹ کرتے رہتے ہیں مگر انہیں معاشرے میں اقبال کا ”مردِ مومن“ درکار ہے نہ ہی وہ اقبال کے کسی ”شاہین“ کو برداشت کرسکتے ہیں۔ عمران خان تو اقبال کے مرد مومن کا پاسنگ بھی نہیں مگر جنرل عاصم منیر سے وہ بھی ہضم نہ ہوسکے اور وہ ابھی تک جیل میں پڑے سڑ رہے ہیں۔
قائداعظم نے قیام پاکستان کے بعد کہا تھا کہ پاکستان بن گیا ہے اور اب انسانی روح کو چاہیے کہ وہ تخلیقی میدان میں اپنے جوہر دکھائے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستانی جرنیلوں نے کبھی پاکستانی قوم کو حقیقی معنوں میں آزاد نہ ہونے دیا۔ پاکستان نظریے کے بعد عوام کی قوت سے وجود میں آیا تھا مگر جرنیلوں نے اقتدار پر قبضہ کرتے ہی قوم کو نظریے اور جمہوریت سے دور کردیا۔ جنرل ایوب دس سال تک اقتدار پر مسلط رہے مگر انہوں نے کبھی انتخابات نہ ہونے دیے۔ انہوں نے صدارتی انتخاب کرایا بھی تو اپنی حریف فاطمہ جناح کے خلاف مہم چلا دی۔ انہوں نے قومی اخبارات میں آدھے آدھے صفحے کے اشتہارات شائع کرائے جن میں فاطمہ جناح کو ”بھارتی ایجنٹ“ قرار دیا گیا تھا حالانکہ پوری قوم انہیں ”مادرِ ملت“ کہتی تھی اور وہ بانی پاکستان کی بہن تھیں۔ جنرل یحییٰ نے 1970ءمیں انتخابات کرائے تو شیخ مجیب اکثریت میں آگئے مگر جنرل یحییٰ نے ان کی اکثریت تسلیم نہ کی، چنانچہ ملک ٹوٹ گیا۔ جنرل یحییٰ نے ملک ٹوٹنا گوارا کرلیا مگر شیخ مجیب کی اکثریت تسلیم کرکے نہ دی۔ ذوالفقار علی بھٹو بڑے ڈیموکریٹ بنتے تھے مگر انہوں نے 1977ءکے انتخابات میں بدترین دھاندلی کراکے پی این اے کو دیوار سے لگا کر کھڑا کردیا۔ بعدازاں انہوں نے قومی اسمبلی کی 32 نشستوں پر نئے انتخابات پر آمادگی ظاہر کی لیکن اس وقت تک دیر ہوچکی تھی اور جنرل ضیا الحق مارشل لا لگانے کا فیصلہ کرچکے تھے۔ جنرل عاسم منیر خیر سے ”سید“ بھی ہیں اور ”حافظ قرآن“ بھی، مگر انہوں نے جو انتخابات کرائے ان میں تحریک انصاف دو تہائی اکثریت سے جیت گئی تھی لیکن نتائج کو 100 فی صد بدل دیا گیا۔ نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز ہار گئے تھے، ان کو جتا دیا گیا۔ کراچی میں ایم کیو ایم کو کسی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشست پر 5000 ووٹ بھی نہیں ملے پھر بھی پورا کراچی ایجنسیوں نے ایم کیو ایم کے حوالے کردیا۔ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی نے اکثریت حاصل کرلی تھی مگر حافظ نعیم الرحمن نے حمایت کے لیے لاہور میں عمران خان سے ملاقات کرلی، چنانچہ اس جرم میں پورا بلدیاتی انتخاب جماعت اسلامی سے چھین کر پیپلز پارٹی کے حوالے کردیا گیا۔ کیا یہی جرنیلوں کا اسلام ہے؟ کیا یہی ان کی ”پاکستانیت“ ہے؟ کیا یہی ان کی ”جمہوریت پسندی“ ہے؟ جرنیلوں نے صرف خود ہی پاکستان پر قبضہ نہیں کیا انہوں نے ملک پر امریکا کو بھی مسلط کردیا۔ جنرل ایوب نے پاکستان کو سیٹو اور سینٹو میں دھکیلا۔ انہوں نے بڈھ بیر میں امریکا کو فوجی اڈا بنانے کی اجازت دی۔ یہاں سے امریکا سوویت یونین کی جاسوسی کرتا تھا۔
جرنیلوں نے اس حد تک امریکا کو پاکستان کے معاملات میں دخیل کیا کہ ہماری پوری سیاست اور معیشت ”امریکا مرکز“ ہو کر رہ گئی۔پاکستانی سیاست کی پستی کا ایک سبب یہ ہے کہ پاکستان میں جماعت اسلامی کے سوا کوئی سیاسی جماعت بھی جمہوری نہیں ہے۔ نواز لیگ شریف خاندان کی باندی ہے۔ پیپلز پارٹی بھٹو خاندان کی لونڈی ہے۔ اے این پی پر ولی خان کا خاندان قابض ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے پہلے سربراہ مفتی محمود تھے۔ وہ انتقال فرما گئے تو ان کے فرزند مولانا فضل الرحمن پارٹی کے سربراہ بن گئے۔ وہ نہیں رہیں گے تو ان کے بیٹے ان کی جگہ لے لیں گے۔ تحریک انصاف کی ساری قوت عمران خان ہیں۔ وہ نہیں ہوں گے تو تحریک انصاف بھی نہیں ہوگی۔
پاکستانی سیاست کی پستی کے اسباب
adminshuja
← پچھلی خبر
کیا اِس لڑائی میں ایٹم بم بھی استعمال ہوگا؟

Leave a Reply