چینی کا استعمال موجودہ عہد میں عام ہے مگر غذا میں اس کی بہت زیادہ مقدار کی موجودگی مختلف امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے۔
مختلف غذاؤں جیسے پھلوں، سبزیوں، دودھ یا اس سے بنی مصنوعات اور اجناس میں قدرتی شکر موجود ہوتی ہے، ہمارا نظام ہاضمہ اس قدرتی مٹھاس کو سست روی سے ہضم کرتا ہے تاکہ جسم کو مسلسل توانائی فراہم کی جاسکے۔
اس کے مقابلے میں چینی جسم میں جاکر فوری طور پر ہضم ہوجاتی ہے جس سے بلڈ شوگر کی سطح میں بہت تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔
یہ واضح رہے کہ ہمارے جسم کو اپنے افعال کے لیے مصنوعی مٹھاس کی ضرورت نہیں ہوتی۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق خواتین کو دن بھر میں 25 گرام (6 چائے کے چمچ) جبکہ مردوں کو 36 گرام (9 چائے کے چمچ) سے زیادہ چینی کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔
مگر بیشتر افراد چینی کی بہت زیادہ مقدار کو غذا کے ذریعے جسم کا حصہ بنالیتے ہیں، جیسے ایک سافٹ ڈرنک میں 10 چائے کے چمچ چینی ہوتی ہے۔
چینی کے بہت زیادہ استعمال سے جسم پر مرتب ہونے والے اثرات کو آپ نیچے جان سکتے ہیں۔
سافٹ ڈرنکس میں چینی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور روزانہ محض ایک سافٹ ڈرنک کو پینے سے بھی جسمانی وزن میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔
جسمانی وزن میں اضافے سے مختلف امراض جیسے ذیابیطس، امراض قلب اور کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے۔
میٹھے مشروبات کے زیادہ استعمال سے ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھتا ہے۔
ان مشروبات سے جسم میں جانے والی چینی خون میں موجود رہتی ہے اور جسم انسولین نامی ہارمون کی کم مقدار بنانے لگتا ہے یا اس کے افعال پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ ہارمون غذا کو جسمانی توانائی میں تبدیل کرتا ہے، جب وہ کام نہیں کرتا تو بلڈ شوگر کی سطح بڑھتی ہے اور ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھتا ہے۔

Leave a Reply