جمعیت علمائے اسلام ضلع کیچ کے زیر اہتمام حکومت بلوچستان کی جانب سے دینی مدارس کے خلاف جاری حالیہ نوٹیفکیشن کے خلاف تربت شہر میں مکمل شٹر ڈاو¿ن ہڑتال کی گئی، جس کے باعث شہر بھر میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں اور بازار سنسان دکھائی دیے۔ہڑتال کے دوران ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ بھی منعقد کیا گیا، جس میں علمائے کرام، دینی مدارس کے طلبائاور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے نوٹیفکیشن کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے تحصیل تربت کے امیر مولانا غلام اللہ رستم درزادہ، مفتی مراد جان، مرکزی کونسل کی رکن حافظ عبدالحفیظ مینگل، ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا جاوید نعمانی، ضلعی کونسل کے رکن مفتی زاہد حسین، تحصیل پریس سیکرٹری مولانا محمد علی شیرانی اور مولانا ابو الحسن نے کہا کہ دینی مدارس ملک کے نظریاتی اور تعلیمی تشخص کا اہم ستون ہیں، جنہیں کسی صورت متنازع بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
مقررین کا کہنا تھا کہ مدارس پہلے ہی 1860 ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہیں اور اس ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کے لیے آج بھی تیار ہیں، اور تمام قانونی تقاضے پورے کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ تاہم اس کے باوجود حکومت کی جانب سے نئے قوانین اور اقدامات باعثِ تشویش ہیں۔انہوں نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور سے مدارس کے خلاف مختلف منصوبے بنائے جاتے رہے ہیں، جنہیں علمائے کرام نے ہمیشہ مسترد کیا اور ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ مقررین نے واضح کیا کہ علمائے کرام حکومتی عزائم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوں گے اور مدارس کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔جے یو آئی رہنماو¿ں نے مزید کہا کہ مدارس کے خلاف کسی بھی قسم کی قانون سازی کو صرف بلوچستان تک محدود رکھنا سوالیہ نشان ہے اور اس کے پسِ پردہ محرکات کو واضح کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان میں اکثر عوامی مینڈیٹ کے برعکس فیصلے مسلط کیے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایسے اقدامات سامنے آتے ہیں جو عوامی خواہشات کے منافی ہوتے ہیں۔مقررین نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا، مگر یہاں سب سے زیادہ علمائے کرام کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان ہر نئے تجربے اور پالیسی کا آغاز بلوچستان سے کرتی ہے، چاہے وہ سیاسی ہو یا انتظامی، جس سے صوبے کے عوام میں احساسِ محرومی بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں نوجوان بیروزگاری کا شکار ہیں، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہیں اور سرحدی تجارت پر پابندیوں نے عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے، جبکہ حکومت مدارس کے خلاف اقدامات میں مصروف ہے۔آخر میں مقررین نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ مدارس کے خلاف جاری نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لیا جائے، بصورت دیگر جمعیت علمائے اسلام سخت احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرے گی۔

Leave a Reply